جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں
جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں تمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیں یہ سب آپ ہی کی ہے گفت و شنید جو گوش و زبان و قلم دیکھتے ہیں اور آپی کا ہے سب یہ جلوہ میاں جو پیش نظر دم بدم دیکھتے ہیں جو ہیں محو دیدار ہم اس قدر یہ آپی کا لطف و کرم دیکھتے ہیں پیا جب سے جام شراب طہورا تبھی سے تو دم ...