جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں
جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں
تمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیں
یہ سب آپ ہی کی ہے گفت و شنید
جو گوش و زبان و قلم دیکھتے ہیں
اور آپی کا ہے سب یہ جلوہ میاں
جو پیش نظر دم بدم دیکھتے ہیں
جو ہیں محو دیدار ہم اس قدر
یہ آپی کا لطف و کرم دیکھتے ہیں
پیا جب سے جام شراب طہورا
تبھی سے تو دم ہیں عدم دیکھتے ہیں
تن و جان و دل جملہ حرکات میں
شہہ قل ہو اللہ کو ہم دیکھتے ہیں
تمہیں ہو صفیؔ شاہ مرداں کی دید
نہ ہم بیش دیکھیں نہ کم دیکھتے ہیں