Mardan Ali Khan Rana

مردان علی خاں رانا

  • - 1879

مردان علی خاں رانا کی غزل

    لے قضا احسان تجھ پر کر چلے

    لے قضا احسان تجھ پر کر چلے ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے کوچۂ جاناں میں جانا ہے ضرور چاہے آرا سر پہ یا خنجر چلے بس یہ ہے کوئے بتاں کی سرگزشت سر پہ میرے سیکڑوں پتھر چلے کوئے جاناں کا نہ پایا کچھ نشان خضر کے ہمراہ ہم دن بھر چلے پائی تیرے در پہ آ کر زندگی او مسیحا کھا کے ہم ٹھوکر ...

    مزید پڑھیے

    باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے

    باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے کچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کے دل خوں ہو شب وصل بھی حسرت میں نہ کیوں کر دیکھیں نہ وہ خلوت میں بھی جب آنکھ اٹھا کے فرمائیے ہم سے تھی یہی شرط محبت خوب آپ نے رسوا کیا غیروں میں بلا کے کوچے میں نہ آئے کوئی میں جان گیا ہوں فرماتے ہو مجھ سے یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2