Mardan Ali Khan Rana

مردان علی خاں رانا

  • - 1879

مردان علی خاں رانا کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    گئی فصل بہار گلشن سے

    گئی فصل بہار گلشن سے بلبلوں اڑ چلو نشیمن سے فاتحہ بھی پڑھا نہ تربت پر جا کے لوٹ آئے میری مدفن سے مجھ کو کافی تھی قید حلقۂ زلف بیڑیاں کیوں بنائیں آہن سے زلف کے پیچ سے نہ رہ غافل دوستی کر دلا نہ دشمن سے ہو گریباں کا چاک خاک رفو تار ہاتھ آئے جب نہ دامن سے ناز و عشوہ نیا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا

    گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا گیا شباب تو اب موسم خضاب آیا میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا کٹا تھا روز مصیبت خدا خدا کر کے یہ رات آئی کہ سر پہ مرے عذاب آیا کہاں ہے دل کو عبث ڈھونڈھتے ہو پہلو میں تمہارے کوچے میں مدت سے اس کو داب آیا کسی کی ...

    مزید پڑھیے

    وہ مسیحا قبر پر آتا رہا

    وہ مسیحا قبر پر آتا رہا میں موے پر روز جی جاتا رہا زندگی کی ہم نے مر مر کے بصر وہ بت ترسا جو ترساتا رہا واہ بخت نارسا دیکھا تجھے نامہ بر سے خط کہیں جاتا رہا راہ تکتے تکتے آخر جاں گئی وہ تغافل کیش بس آتا رہا دل تو دینے کو دیا پر ہم نشیں ہاتھ میں مل مل کے پچھتاتا رہا دیکھ اس کو ہو ...

    مزید پڑھیے

    واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے

    واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے کیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہے جس کو دیکھو وہ نور کا بقعہ یے پرستان ہے کہ لندن ہے عبث ان کو مسیح کہتے ہیں مار رکھنے کا ان میں لچھن ہے حسن دکھلا رہا ہے جلوۂ حق روئے تاباں سے صاف روشن ہے رسم الٹی ہے خوب رویوں میں دوست جس کے بنو وہ دشمن ہے حال عشاق کو بتاتے ...

    مزید پڑھیے

    کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے

    کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے ہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھے عمر بھر یوں تو کبھی لی بھی نہ کروٹ پس مرگ حیف رہ رہ کے کیا کرتے ہیں اب یاد مجھے حکم درباں کو ہے زنہار نہ آنے پائے غیر کے سامنے کرتے ہیں مگر یاد مجھے باغباں گلشن عالم کا میں وہ بلبل ہوں طائر سدرہ کہا کرتا ہے ...

    مزید پڑھیے

تمام