Mardan Ali Khan Rana

مردان علی خاں رانا

  • - 1879

مردان علی خاں رانا کی غزل

    گئی فصل بہار گلشن سے

    گئی فصل بہار گلشن سے بلبلوں اڑ چلو نشیمن سے فاتحہ بھی پڑھا نہ تربت پر جا کے لوٹ آئے میری مدفن سے مجھ کو کافی تھی قید حلقۂ زلف بیڑیاں کیوں بنائیں آہن سے زلف کے پیچ سے نہ رہ غافل دوستی کر دلا نہ دشمن سے ہو گریباں کا چاک خاک رفو تار ہاتھ آئے جب نہ دامن سے ناز و عشوہ نیا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا

    گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا گیا شباب تو اب موسم خضاب آیا میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا کٹا تھا روز مصیبت خدا خدا کر کے یہ رات آئی کہ سر پہ مرے عذاب آیا کہاں ہے دل کو عبث ڈھونڈھتے ہو پہلو میں تمہارے کوچے میں مدت سے اس کو داب آیا کسی کی ...

    مزید پڑھیے

    وہ مسیحا قبر پر آتا رہا

    وہ مسیحا قبر پر آتا رہا میں موے پر روز جی جاتا رہا زندگی کی ہم نے مر مر کے بصر وہ بت ترسا جو ترساتا رہا واہ بخت نارسا دیکھا تجھے نامہ بر سے خط کہیں جاتا رہا راہ تکتے تکتے آخر جاں گئی وہ تغافل کیش بس آتا رہا دل تو دینے کو دیا پر ہم نشیں ہاتھ میں مل مل کے پچھتاتا رہا دیکھ اس کو ہو ...

    مزید پڑھیے

    واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے

    واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے کیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہے جس کو دیکھو وہ نور کا بقعہ یے پرستان ہے کہ لندن ہے عبث ان کو مسیح کہتے ہیں مار رکھنے کا ان میں لچھن ہے حسن دکھلا رہا ہے جلوۂ حق روئے تاباں سے صاف روشن ہے رسم الٹی ہے خوب رویوں میں دوست جس کے بنو وہ دشمن ہے حال عشاق کو بتاتے ...

    مزید پڑھیے

    کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے

    کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے ہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھے عمر بھر یوں تو کبھی لی بھی نہ کروٹ پس مرگ حیف رہ رہ کے کیا کرتے ہیں اب یاد مجھے حکم درباں کو ہے زنہار نہ آنے پائے غیر کے سامنے کرتے ہیں مگر یاد مجھے باغباں گلشن عالم کا میں وہ بلبل ہوں طائر سدرہ کہا کرتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے

    ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے بس یہی موت کا بہانہ ہے کیوں نہ برسائیں اشک دیدۂ تر آتش عشق کا بجھانا ہے ہو عدو جس پہ کیجیئے احسان کچھ عجب طرح کا زمانہ ہے یاد دلوا کے داستان وصال عاشق زار کو رلانا ہے رکھ دلا روز و شب امید وصال رنج فرقت اگر بھلانا ہے جان جاتی ہے جس جگہ سب کی اسی کوچے ...

    مزید پڑھیے

    تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی

    تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی کیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالی بھولے ہیں غزالان حرم راہ خطا سے تم نے عجب انداز کی رفتار نکالی دھڑکا مرے نالہ کا رہا مرغ سحر کو آواز شب وصل نہ زنہار نکالی ہر گھر میں کہے رکھتے ہیں کہرام پڑے گا گر لاش ہماری سر بازار نکالی آخر مری تربت سے اگی ہے گل ...

    مزید پڑھیے

    جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے

    جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے قطرۂ اشک دیدۂ تر ہے ابروئے یار دل کا خنجر ہے مژۂ یار نوک نشتر ہے چشم عاشق سے دو بہے دریا ایک تسنیم ایک کوثر ہے خانۂ دل ہے غیر سے خالی شوق سے آؤ آپکا گھر ہے قطعی آج فیصلہ ہوگا تیری تلوار ہے مرا سر ہے اب تو دھونی رما کے بیٹھے ہیں در جاناں پے اپنا ...

    مزید پڑھیے

    پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے

    پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے چلا دو گام بھی جب وہ ادا سے وہ بت آئے ادھر بھی بھول کر راہ دعا یہ مانگتا ہوں میں خدا سے حجاب اس کا ہوا شب مانع دید نقاب الٹی نہ چہرے کی حیا سے اشارہ خنجر ابرو کا بس تھا مجھے مارا عبث تیغ جفا سے بہت بل کھا رہی ہے زلف جاناں بچے گی جان کیوں کر اس بلا سے ہے ...

    مزید پڑھیے

    کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو

    کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو موت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو کبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو آہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو دشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق منہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو روز روشن ہو نہ کیوں کر مری آنکھوں میں سیاہ ہے ترے گیسوئے شب رنگ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2