Maratib Akhtar

مراتب اختر

مراتب اختر کی نظم

    سمندروں کے مسافرو

    اسے جس نے تمہیں بلا لیا ہے سمندروں کے مسافرو اسے جا کے میرا سلام کہنا مسافرو جو سفر کی ساری صعوبتوں سے گراں بہا جب تمہارے اور مرے سفینے کا ناخدا دو جہاں کے ہمہ ذی حیات یہ دن یہ رات بھی جس کے گرد رکے ہوئے ہیں جہاں زمیں پہ جھکے ہوئے ہیں کلاہ تیرتے بادلوں کے جو نور ہے ہمہ نور ہے جہاں ...

    مزید پڑھیے

    دیوانے دل

    دیوانے دل کس سوچ میں ہے دیوانے دل کن امیدوں پر جیتا ہے ہر رات اندھیرے لاتی ہے ہر رات اندھیرے لائے گی اور عمر بسر ہو جائے گی امیدوں کے ان موج موج دریاؤں میں دریاؤں کی گہرائی میں کیا تیرے لیے ہے ایک اذیت جینے کی کیا حاصل ہے ان موج موج دریاؤں کو دیکھتے رہنے کا اور پیاسے اور دیوانے ...

    مزید پڑھیے