سمندروں کے مسافرو
اسے جس نے تمہیں بلا لیا ہے سمندروں کے مسافرو اسے جا کے میرا سلام کہنا مسافرو جو سفر کی ساری صعوبتوں سے گراں بہا جب تمہارے اور مرے سفینے کا ناخدا دو جہاں کے ہمہ ذی حیات یہ دن یہ رات بھی جس کے گرد رکے ہوئے ہیں جہاں زمیں پہ جھکے ہوئے ہیں کلاہ تیرتے بادلوں کے جو نور ہے ہمہ نور ہے جہاں ...