Maratib Akhtar

مراتب اختر

مراتب اختر کی غزل

    تو جا رہی ہے چھوڑ کے جا پھر کبھی سہی

    تو جا رہی ہے چھوڑ کے جا پھر کبھی سہی اے بستیوں کی تیز ہوا پھر کبھی سہی اب آدمی کی جس پہ مسلط مشین ہے اب زر کی جستجو ہے خدا پھر کبھی سہی تجھ کو ڈبو گیا تجھے برباد کر گیا یہ تکیۂ کلام ترا پھر کبھی سہی اس وقت ایک ربط مسلسل ہے ناگزیر پابندیٔ قیود انا پھر کبھی سہی میں اپنے اضطرار سے ...

    مزید پڑھیے

    ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے

    ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے بلندیوں پہ پہنچ کر تجھے بلائیں گے مجھے وہ وقت وہ لمحات یاد آئیں گے یہ ننھے لان میں جب تتلیاں اڑائیں گے کیا ہے عہد اکیلے رہیں گے ہم دائم بھری رہے تری دنیا میں ہم نہ آئیں گے سموں کا راستہ تکتی رہیں گی سانولیاں جو پنچھیوں کی طرح لوٹ کر نہ آئیں ...

    مزید پڑھیے

    سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں

    سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں پھر میں اسیر ہو گیا پیکر کے جیل میں اب لوٹ کر بدل گئی رت پھول کھل گئے دیوار پر لٹکتی ہوئی زرد بیل میں کتنے سمے فراق کے دہرا گئے مجھے کتنی رتیں بکھر گئیں دو پل کے میل میں شعلوں کا رقص تجھ کو نہیں تھا اگر پسند یہ آگ کیوں لگائی تھی مٹی کے تیل ...

    مزید پڑھیے

    سارے منظر خاک ہوتے جا رہے ہیں دوستو

    سارے منظر خاک ہوتے جا رہے ہیں دوستو ہم نے جو پایا ہے کھوتے جا رہے ہیں دوستو آؤ پیدل ہی سفر کے سلسلوں کو روند دیں بیٹھے بیٹھے بانجھ ہوتے جا رہے ہیں دوستو سانس کی ڈوری میں اجڑے موسموں کی سیپیاں اک تسلسل سے پروتے جا رہے ہیں دوستو تیرتی مڑ مڑ کے تکتی کشتیوں کے بادباں رفتہ رفتہ دور ...

    مزید پڑھیے

    چاروں طرف ہے خون کا دریا چڑھا ہوا

    چاروں طرف ہے خون کا دریا چڑھا ہوا کشمیر سر زمین مقدس روڈیشیا چائے کی پیالیوں سے اٹھے گی نئی مہک بے برگ ٹہنیوں پہ نیا رنگ آئے گا جینے کی اک امنگ جو کل تھی سو اب بھی ہے مرنے کا وقت آج بھی ہے کل بھی آئے گا پتو مجھے لپیٹ لو اپنی رداؤں میں میں وہ درخت ہوں جسے کچھ بھی نہیں ملا شیشوں ...

    مزید پڑھیے

    بلندیوں سے وہ بے داغ نور ابھر آئے

    بلندیوں سے وہ بے داغ نور ابھر آئے ہزار رنگ تہی وسعتوں میں بھر آئے کھلے نگاہ کی شاخوں پہ انتظار کے پھول ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نظر آئے لبوں سے بچھڑے ہوئے قہقہے تری مانند رتیں گزر گئیں لیکن نہ لوٹ کر آئے بجھی بجھی ہوئی آنکھیں بھنور بھنور چہرے جب آفتاب کی لو بجھ رہی تھی گھر ...

    مزید پڑھیے

    اس سایہ دار پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کے

    اس سایہ دار پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کے کیا مل گیا تجھے مری دنیا اجاڑ کے اب اور انتظار کر اے کھوکھلے بدن میں آ رہا ہوں مد مقابل پچھاڑ کے تنہا مجھے بسیط خلا میں اڑا دیا ہم زاد نے بیاض تسلسل سے پھاڑ کے کیوں چاند کی طرف ہیں رواں کم نگاہ لوگ دل کی ردا سے عظمت پستی کو جھاڑ کے اس خود نما کی ...

    مزید پڑھیے

    پیوند نو زمیں کی ردا سے لگا دیا

    پیوند نو زمیں کی ردا سے لگا دیا میں حصۂ فنا تھا فنا سے ملا دیا پل میں سمیٹ لی ہے صدی سی طویل رات پھیلا کے ایک دن کو زمانہ بنا دیا اس نے مجھے دکھا کے مری سمت دیکھ کر تتلی کا پر ہتھیلی پہ رکھ کر اڑا دیا ہر وقت اک یہ دھن ہے کہ میں تجزیہ کروں مجھ کو مرے جنون تجسس نے کیا دیا

    مزید پڑھیے

    جاگ اٹھیں چنگھاڑتی موجیں سفینہ چاہئے

    جاگ اٹھیں چنگھاڑتی موجیں سفینہ چاہئے چار جانب موت ہے ہمت سے جینا چاہئے میز پر اک فائلوں کا ڈھیر ذہنی کرب خوف آدمی سے کام لینے کا قرینہ چاہئے آگ برسائی ادھر انسان پر انسان نے اور حریفوں کو ادھر صحرائے سینا چاہئے اس بھرے بازار اس بغداد سے گزرا ہوں میں میں یہاں بھوکا ہوں مجھ کو ...

    مزید پڑھیے

    یہ گھر کے بھید ہیں کہوں کیسے زبان سے

    یہ گھر کے بھید ہیں کہوں کیسے زبان سے کیا دکھ ملے ہیں مجھ کو میرے بھائی جان سے کیفے کے ایک کونے میں مصروف گفتگو مغموم بے حیات بدن بے زبان سے یہ دن جو آج بیت گیا پھر نہ آئے گا یہ تیر بھی نکل گیا قوس کمان سے اچھے بشر ہیں جن کو نہیں ڈھونڈنے کی دھن اچھا خدا ہے دور ہے وابستگان سے الٹے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2