Maratib Akhtar

مراتب اختر

مراتب اختر کی غزل

    آئے تھے جس طرف سے وہ اک دن ادھر گئے

    آئے تھے جس طرف سے وہ اک دن ادھر گئے برگد کا پیڑ کٹ گیا سادھو گزر گئے کیا زندگی ملی انہیں طوفاں کی گود میں دو جسم ایک جسم ہوئے اور مر گئے کرنے لگے قیاس کہیں قتل ہو گیا آندھی کا رنگ سرخ تھا سب لوگ ڈر گئے اب مجھ کو بھول بھال گئے سب معاشقے ساون کی رت گزر گئی دریا اتر گئے اک جسم میں ...

    مزید پڑھیے

    پہنچا ہوں آسماں پہ تجھے ڈھونڈھتا ہوا

    پہنچا ہوں آسماں پہ تجھے ڈھونڈھتا ہوا اے مختصر بسیط ستارے قریب آ بکھرے ہوئے طلب کے تقاضے ادھر ادھر کپڑے گلاس قہقہے ساحل پہ جا بہ جا بیٹا سنو کہا یہ مجھے اک بزرگ نے محدود کس قدر ہے یہ ٹکڑا زمین کا ان بستیوں کے پار ادھر دور اس طرف لرزاں ہے خوف مرگ سے انسان آج کا پاگل سا ایک آدمی ...

    مزید پڑھیے

    میں وہ دریا ہوں چڑھا ہو جو اترنے کے لئے

    میں وہ دریا ہوں چڑھا ہو جو اترنے کے لئے جی رہا ہوں میں یہاں ہم زاد مرنے کے لئے چائے خانے کی نشستوں پر جریدوں کے ورق پیڑ سے پتے جھڑے اڑنے بکھرنے کے لئے ایک میں مد مقابل وسعت آفاق میں اور ساری طاقتیں گمراہ کرنے کے لئے حافظہ ویران ہونے کے لئے آباد تھا نام کچھ ہونٹوں پہ آئے تھے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2