Maratib Akhtar

مراتب اختر

مراتب اختر کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    تو جا رہی ہے چھوڑ کے جا پھر کبھی سہی

    تو جا رہی ہے چھوڑ کے جا پھر کبھی سہی اے بستیوں کی تیز ہوا پھر کبھی سہی اب آدمی کی جس پہ مسلط مشین ہے اب زر کی جستجو ہے خدا پھر کبھی سہی تجھ کو ڈبو گیا تجھے برباد کر گیا یہ تکیۂ کلام ترا پھر کبھی سہی اس وقت ایک ربط مسلسل ہے ناگزیر پابندیٔ قیود انا پھر کبھی سہی میں اپنے اضطرار سے ...

    مزید پڑھیے

    ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے

    ادق یہ بات سہی پھر بھی کر دکھائیں گے بلندیوں پہ پہنچ کر تجھے بلائیں گے مجھے وہ وقت وہ لمحات یاد آئیں گے یہ ننھے لان میں جب تتلیاں اڑائیں گے کیا ہے عہد اکیلے رہیں گے ہم دائم بھری رہے تری دنیا میں ہم نہ آئیں گے سموں کا راستہ تکتی رہیں گی سانولیاں جو پنچھیوں کی طرح لوٹ کر نہ آئیں ...

    مزید پڑھیے

    سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں

    سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں پھر میں اسیر ہو گیا پیکر کے جیل میں اب لوٹ کر بدل گئی رت پھول کھل گئے دیوار پر لٹکتی ہوئی زرد بیل میں کتنے سمے فراق کے دہرا گئے مجھے کتنی رتیں بکھر گئیں دو پل کے میل میں شعلوں کا رقص تجھ کو نہیں تھا اگر پسند یہ آگ کیوں لگائی تھی مٹی کے تیل ...

    مزید پڑھیے

    سارے منظر خاک ہوتے جا رہے ہیں دوستو

    سارے منظر خاک ہوتے جا رہے ہیں دوستو ہم نے جو پایا ہے کھوتے جا رہے ہیں دوستو آؤ پیدل ہی سفر کے سلسلوں کو روند دیں بیٹھے بیٹھے بانجھ ہوتے جا رہے ہیں دوستو سانس کی ڈوری میں اجڑے موسموں کی سیپیاں اک تسلسل سے پروتے جا رہے ہیں دوستو تیرتی مڑ مڑ کے تکتی کشتیوں کے بادباں رفتہ رفتہ دور ...

    مزید پڑھیے

    چاروں طرف ہے خون کا دریا چڑھا ہوا

    چاروں طرف ہے خون کا دریا چڑھا ہوا کشمیر سر زمین مقدس روڈیشیا چائے کی پیالیوں سے اٹھے گی نئی مہک بے برگ ٹہنیوں پہ نیا رنگ آئے گا جینے کی اک امنگ جو کل تھی سو اب بھی ہے مرنے کا وقت آج بھی ہے کل بھی آئے گا پتو مجھے لپیٹ لو اپنی رداؤں میں میں وہ درخت ہوں جسے کچھ بھی نہیں ملا شیشوں ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    سمندروں کے مسافرو

    اسے جس نے تمہیں بلا لیا ہے سمندروں کے مسافرو اسے جا کے میرا سلام کہنا مسافرو جو سفر کی ساری صعوبتوں سے گراں بہا جب تمہارے اور مرے سفینے کا ناخدا دو جہاں کے ہمہ ذی حیات یہ دن یہ رات بھی جس کے گرد رکے ہوئے ہیں جہاں زمیں پہ جھکے ہوئے ہیں کلاہ تیرتے بادلوں کے جو نور ہے ہمہ نور ہے جہاں ...

    مزید پڑھیے

    دیوانے دل

    دیوانے دل کس سوچ میں ہے دیوانے دل کن امیدوں پر جیتا ہے ہر رات اندھیرے لاتی ہے ہر رات اندھیرے لائے گی اور عمر بسر ہو جائے گی امیدوں کے ان موج موج دریاؤں میں دریاؤں کی گہرائی میں کیا تیرے لیے ہے ایک اذیت جینے کی کیا حاصل ہے ان موج موج دریاؤں کو دیکھتے رہنے کا اور پیاسے اور دیوانے ...

    مزید پڑھیے