سوچی تھی جو وہ جرم و سزا تک پہنچ گئی

سوچی تھی جو وہ جرم و سزا تک پہنچ گئی
جو بات دل میں تھی وہ خدا تک پہنچ گئی


پتہ گرا کہ سر پہ کوئی سنگ آ لگا
چپ چاپ اس کی یاد صدا تک پہنچ گئی


اس گل پہ پھول پھول نے دل میں کیا ہے رشک
جب شب کی بات باد صبا تک پہنچ گئی


میں محو خواب تھا کہ مرے من کی ایک موج
اٹھی تو اس کے بند قبا تک پہنچ گئی


میں بات کر رہا تھا زمانے کے جور کی
آگے بڑھی تو اس کی ادا تک پہنچ گئی


اک آرزو کہ دل میں رہی ہے تمام عمر
تنگ آ کے آج دست دعا تک پہنچ گئی