تھکن
کٹ گئے اپنی جوانی کے مہ و سال یوں ہی روز و شب کوچہ و بازار میں منڈلاتے ہوئے کبھی ہنس کر کبھی رو کر کبھی خاموشی سے دل بیتاب کو ہر گام پہ بہلاتے ہوئے حسن سے ہم کو عقیدت تھی سو ہر حالت میں گیت گاتے ہی رہے محفل خوباں کے لئے شاہراہوں پہ بیابانوں میں صحراؤں میں پھول ہم چنتے رہے ان کے ...