Manzar Saleem

منظر سلیم

منظر سلیم کی غزل

    جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا

    جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا میری بستی مجھ کو پہچانے گی کیا زخم سر ہے آپ اپنی داستان پتھروں سے زندگی پوچھے گی کیا تیرگی نے مسخ کر دیں صورتیں آنے والی روشنی دیکھے گی کیا ذہن میں رکنے نہیں پاتے خیال جسم کے اوپر قبا ٹھہرے گی کیا میں تو جاں دیتے ہوئے بھی ہنس پڑوں تلخی زہراب غم ...

    مزید پڑھیے

    دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ

    دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ جرأت کہاں کہ صحرا سے ہوں ہم کنار لوگ جادو فضا کا تھا کہ ہوا میں ملا تھا زہر پتھر ہوئے جہاں تھے وہیں بے شمار لوگ اب سایہ و ثمر کی توقع کہاں رکے سوکھے ہوئے شجر ہیں سر رہ گزار لوگ دہشت کھلی فضا کی قیامت سے کم نہ تھی گرتے ہوئے مکانوں میں آ ...

    مزید پڑھیے

    ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

    ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا اب کیجے کسی کا شکوہ کیا جو کچھ بھی ہوا اچھا ہی ہوا کچھ منزل کا غم بڑھ جاتا کچھ راہیں مشکل ہو جاتیں اس تپتی دھوپ میں زلفوں کا سایہ نہ ملا اچھا ہی ہوا اب راہ وفا کے پتھر کو ہم پھول نہیں سمجھیں گے کبھی پہلے ہی قدم پر ٹھیس لگی دل ٹوٹ گیا ...

    مزید پڑھیے

    ایک جیسے نیم جاں ماحول و منظر دور تک

    ایک جیسے نیم جاں ماحول و منظر دور تک بے نوا بے نام لوگوں کے سمندر دور تک بس وہی لفظوں کی بارش ایک سی ہر ابر سے ایک سے پیاسی زمینوں کے مقدر دور تک خاک ہوتے آتش احساس محرومی سے دل برف مایوسی میں جکڑے ذہن اکثر دور تک زندگی کو ناگنوں کی طرح ڈستی گولیاں زہر بڑھتا پھیلتا اندر ہی اندر ...

    مزید پڑھیے

    جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے

    جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے اس مرے سر میں جانے کیا کیا ہے بت بنایا مرے ہنر نے مجھے میرے ہاتھوں نے مجھ کو توڑا ہے بستیاں اجڑی ہیں تو سناٹا میری آواز میں سمایا ہے میں بھی بے جڑ کا پیڑ ہوں شاید مجھ کو بھی ڈر ہوا سے لگتا ہے شہر میں کچھ عمارتوں کے سوا اب مرا کون ملنے والا ہے کہنے سننے ...

    مزید پڑھیے

    مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

    مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے نفرت کے جس پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوں میں وہ ساری کائنات پہ پھیلا ہوا سا ...

    مزید پڑھیے

    اس چشم فسوں گر کے پیمانے کی باتیں ہوں

    اس چشم فسوں گر کے پیمانے کی باتیں ہوں میخانے میں بیٹھے ہیں میخانے کی باتیں ہوں زلف‌ و لب و عارض کی جنت میں پہنچ جائیں اس حسن مجسم کے کاشانے کی باتیں ہوں لوٹی ہے صبا حل کر اس جان بہاراں سے ارمانوں کی کلیوں کے کھل جانے کی باتیں ہوں پھر دکھنے لگے شانے بار غم ہستی سے پھر شانے پہ ...

    مزید پڑھیے