Manzar Saleem

منظر سلیم

منظر سلیم کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا

    جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا میری بستی مجھ کو پہچانے گی کیا زخم سر ہے آپ اپنی داستان پتھروں سے زندگی پوچھے گی کیا تیرگی نے مسخ کر دیں صورتیں آنے والی روشنی دیکھے گی کیا ذہن میں رکنے نہیں پاتے خیال جسم کے اوپر قبا ٹھہرے گی کیا میں تو جاں دیتے ہوئے بھی ہنس پڑوں تلخی زہراب غم ...

    مزید پڑھیے

    دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ

    دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ جرأت کہاں کہ صحرا سے ہوں ہم کنار لوگ جادو فضا کا تھا کہ ہوا میں ملا تھا زہر پتھر ہوئے جہاں تھے وہیں بے شمار لوگ اب سایہ و ثمر کی توقع کہاں رکے سوکھے ہوئے شجر ہیں سر رہ گزار لوگ دہشت کھلی فضا کی قیامت سے کم نہ تھی گرتے ہوئے مکانوں میں آ ...

    مزید پڑھیے

    ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

    ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا اب کیجے کسی کا شکوہ کیا جو کچھ بھی ہوا اچھا ہی ہوا کچھ منزل کا غم بڑھ جاتا کچھ راہیں مشکل ہو جاتیں اس تپتی دھوپ میں زلفوں کا سایہ نہ ملا اچھا ہی ہوا اب راہ وفا کے پتھر کو ہم پھول نہیں سمجھیں گے کبھی پہلے ہی قدم پر ٹھیس لگی دل ٹوٹ گیا ...

    مزید پڑھیے

    ایک جیسے نیم جاں ماحول و منظر دور تک

    ایک جیسے نیم جاں ماحول و منظر دور تک بے نوا بے نام لوگوں کے سمندر دور تک بس وہی لفظوں کی بارش ایک سی ہر ابر سے ایک سے پیاسی زمینوں کے مقدر دور تک خاک ہوتے آتش احساس محرومی سے دل برف مایوسی میں جکڑے ذہن اکثر دور تک زندگی کو ناگنوں کی طرح ڈستی گولیاں زہر بڑھتا پھیلتا اندر ہی اندر ...

    مزید پڑھیے

    جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے

    جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے اس مرے سر میں جانے کیا کیا ہے بت بنایا مرے ہنر نے مجھے میرے ہاتھوں نے مجھ کو توڑا ہے بستیاں اجڑی ہیں تو سناٹا میری آواز میں سمایا ہے میں بھی بے جڑ کا پیڑ ہوں شاید مجھ کو بھی ڈر ہوا سے لگتا ہے شہر میں کچھ عمارتوں کے سوا اب مرا کون ملنے والا ہے کہنے سننے ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    تھکن

    کٹ گئے اپنی جوانی کے مہ و سال یوں ہی روز و شب کوچہ و بازار میں منڈلاتے ہوئے کبھی ہنس کر کبھی رو کر کبھی خاموشی سے دل بیتاب کو ہر گام پہ بہلاتے ہوئے حسن سے ہم کو عقیدت تھی سو ہر حالت میں گیت گاتے ہی رہے محفل خوباں کے لئے شاہراہوں پہ بیابانوں میں صحراؤں میں پھول ہم چنتے رہے ان کے ...

    مزید پڑھیے