Manzar Rivandhavi

منظر رونڈھوی

منظر رونڈھوی کی غزل

    شب کے ماتھے پہ کرن پیار کی لہراتی ہے

    شب کے ماتھے پہ کرن پیار کی لہراتی ہے زندگی پیار کے پہلو میں سمٹ آتی ہے دن گزرتا ہے اجالوں کی توقع کرتے رات زخموں کی مدارات میں کٹ جاتی ہے دیکھتا ہوں تو اندھیروں کے وہی لشکر ہیں سوچتا ہوں تو کوئی صبح نکھر جاتی ہے جس طرف دیکھیے ماحول کی پیشانی پر ایک جلتی ہوئی تحریر نظر آتی ...

    مزید پڑھیے

    خوشی سے شوق سے بار الم اٹھانا ہے

    خوشی سے شوق سے بار الم اٹھانا ہے مصیبتوں میں بھی رہ رہ کے مسکرانا ہے مجھے تو ساحل مقصود کی تمنا ہے سفینہ ہجر حوادث سے لے کے جانا ہے تم اپنے طرز تغافل کو بھی بدل ڈالو تمہیں خبر نہیں بدلا ہوا زمانہ ہے مجھے تو جذب جگر سے یا آہ پیہم سے کسی طرح سے تصور میں ان کو لانا ہے نہیں ہے باد ...

    مزید پڑھیے