خوشی سے شوق سے بار الم اٹھانا ہے

خوشی سے شوق سے بار الم اٹھانا ہے
مصیبتوں میں بھی رہ رہ کے مسکرانا ہے


مجھے تو ساحل مقصود کی تمنا ہے
سفینہ ہجر حوادث سے لے کے جانا ہے


تم اپنے طرز تغافل کو بھی بدل ڈالو
تمہیں خبر نہیں بدلا ہوا زمانہ ہے


مجھے تو جذب جگر سے یا آہ پیہم سے
کسی طرح سے تصور میں ان کو لانا ہے


نہیں ہے باد مخالف کا خوف اے منظر
چراغ تند ہواؤں میں بھی جلانا ہے