شب کے ماتھے پہ کرن پیار کی لہراتی ہے

شب کے ماتھے پہ کرن پیار کی لہراتی ہے
زندگی پیار کے پہلو میں سمٹ آتی ہے


دن گزرتا ہے اجالوں کی توقع کرتے
رات زخموں کی مدارات میں کٹ جاتی ہے


دیکھتا ہوں تو اندھیروں کے وہی لشکر ہیں
سوچتا ہوں تو کوئی صبح نکھر جاتی ہے


جس طرف دیکھیے ماحول کی پیشانی پر
ایک جلتی ہوئی تحریر نظر آتی ہے


اک کہانی ہے کہ آوارہ تمنا جس کو
غم کی دیوار سے لگ کے ابھی دہراتی ہے