شمع و گل نے سج تو دی محفل تری تیرے بغیر
شمع و گل نے سج تو دی محفل تری تیرے بغیر وہ رہی اپنی جگہ جو تھی کمی تیرے بغیر آمد و رفت نفس دشوار تھی تیرے بغیر ایک نشتر سا چبھا جب سانس لی تیرے بغیر ہو گئیں تھیں سب بھلی باتیں بری تیرے بغیر ہاں مگر اچھی ہوئی تو شاعری تیرے بغیر ہائے دل جس کی امنگیں تھیں بہاریں باغ کی وہ مری جنت ...