Manzar Lakhnavi

منظر لکھنوی

  • - 1965

منظر لکھنوی کی غزل

    مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے

    مدت کے بعد ایسی سنائی خبر مجھے میں نامہ بر کو دیکھتا ہوں نامہ بر مجھے محفل پہ اپنی ناز تمہیں موت پر مجھے بس جاؤ اب نہ دیکھنا کل سے ادھر مجھے سو راتیں ایک ہجر کی شب میں تمام کیں جب آنکھ بند کی نظر آئی سحر مجھے سادہ ورق جواب میں اک لا کے دے گیا دیوانہ جانتا ہے مرا نامہ بر مجھے ہاں ...

    مزید پڑھیے

    چمکا ہے یوں نصیب کا تارا کبھی کبھی

    چمکا ہے یوں نصیب کا تارا کبھی کبھی ہم کو تو خود اسی نے پکارا کبھی کبھی لے ڈوبتا ہے دل کو سہارا کبھی کبھی منجدھار بن گیا ہے کنارا کبھی کبھی یہ بھی ہوا ہے حال ہمارا کبھی کبھی اپنے کو ہم نے آپ پکارا کبھی کبھی اپنے سے بے نیاز ہوا جا رہا ہوں میں سن سن کے تم سے حال تمہارا کبھی ...

    مزید پڑھیے

    انجام محبت سے میں بیگانہ نہیں ہوں

    انجام محبت سے میں بیگانہ نہیں ہوں دیوانہ بنا پھرتا ہوں دیوانہ نہیں ہوں دم بھر میں جو ہو ختم وہ افسانہ نہیں ہوں انسان ہوں انسان میں پروانہ نہیں ہوں ساقی تری آنکھوں کو سلامت رکھے اللہ اب تک تو میں شرمندۂ پیمانہ نہیں ہوں ہو بار نہ خاطر پہ تو ناصح کہوں اک بات سمجھا لیں جسے آپ وہ ...

    مزید پڑھیے

    عید کا دن ہوا کرتی تھی ہر اک رات مجھے

    عید کا دن ہوا کرتی تھی ہر اک رات مجھے ہائے وہ وقت کہ راس آتی تھی برسات مجھے کچھ بھی ہو توبہ محبت سے نہ ہوگی واعظ جان و دل دونوں سے پیاری ہے مری بات مجھے جگمگاتی تری آنکھوں کی قسم فرقت میں بڑے دکھ دیتی ہے یہ تاروں بھری رات مجھے دل نے ان کو بھی کیا چشم مروت کے سپرد آپ سے تھے بھی جو ...

    مزید پڑھیے

    دل سے نہ وہی اور ہیں منظرؔ نہ ہمیں اور

    دل سے نہ وہی اور ہیں منظرؔ نہ ہمیں اور یہ وقت ہے جو ہم ہیں کہیں اور وہ کہیں اور ہنس کر نہیں اب روٹھ کے اک بار نہیں اور غصہ کرو غصہ کرو بن جاؤ حسیں اور سب وہم تھا دنیا تھی فلک تھا نہ زمیں اور جب آئینہ دیکھا تو نظر آئے ہمیں اور ہمیں اور میرا تو سلام اس کو بہار در جاناں تجھ سے اگر ...

    مزید پڑھیے

    بے خود ایسا کیا خوف شب تنہائی نے

    بے خود ایسا کیا خوف شب تنہائی نے صبح سے شمع جلا دی ترے سودائی نے حسب منشا دل پر شوق کی باتوں کا جواب دے دیا شرم میں ڈوبی ہوئی انگڑائی نے ہو کا عالم ہوا اس سمت کو اڑنے لگی خاک جس طرف غور سے دیکھا ترے سودائی نے قتل پر میرے بہائے نہ کسی نے آنسو داد قاتل کو دی اک ایک تماشائی ...

    مزید پڑھیے

    اس سے جی بھر کے ملی داد تمنا مجھ کو

    اس سے جی بھر کے ملی داد تمنا مجھ کو جس نے تصویر تری دیکھ کے دیکھا مجھ کو دیکھنے والے یہ کس شان سے دیکھا مجھ کو آج دنیا کے مزے دے گئی دنیا مجھ کو جذب دل تیرے کرشموں نے الٹ دی دنیا اب سناتے ہیں وہ خود میرا فسانا مجھ کو بے تحاشا تری تصویر پہ جاتی ہے نگاہ جب کوئی کہتا ہے تقدیر کا مارا ...

    مزید پڑھیے

    تغافل اور کرم دونوں برابر کام کرتے تھے

    تغافل اور کرم دونوں برابر کام کرتے تھے جگر کے زخم بھرتے تھے تو دل کے داغ ابھرتے تھے خدا جانے ہمیں کیا تھا کہ پھر بھی ان پہ مرتے تھے جو دن بھر میں ہزاروں وعدے کرتے تھے مکرتے تھے نہ پوچھو ان کی تصویر خیالی کی سجاوٹ کو ادھر دل رنگ دیتا تھا ادھر ہم رنگ بھرتے تھے محبت کا سمندر اس کی ...

    مزید پڑھیے

    کس زباں سے شکوۂ جور ستم آرا کریں

    کس زباں سے شکوۂ جور ستم آرا کریں جس کو اچھا کہہ چکے اس کی برائی کیا کریں ان سے جب پوچھا گیا بسمل تمہارے کیا کریں ہنس کے بولے زخم دل دیکھا کریں رویا کریں ہو کے غش جلوے سے نقل حضرت موسیٰ کریں آپ اگر پردہ اٹھا بھی دیں تو ہم پردا کریں حسن سے وعدہ خلافی عشق سے توبا کریں دین کے بھی ہوں ...

    مزید پڑھیے

    آہیں بھریں گے ہم کبھی نالہ کریں گے ہم

    آہیں بھریں گے ہم کبھی نالہ کریں گے ہم جب تک نہ بولیے گا پکارا کریں گے ہم دنیا کو دین دین کو دنیا کریں گے ہم تیرے بنیں گے ہم تجھے اپنا کریں گے ہم کچھ ہے تو یادگار محبت یہی سہی وہ چھوڑ دیں ستم بھی تو پھر کیا کریں گے ہم دعوے بڑے ہیں تم کو جوانی کی نیند پر اچھا تو آج رات کو نالا کریں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3