Manzar Lakhnavi

منظر لکھنوی

  • - 1965

منظر لکھنوی کی غزل

    شب ہجر یوں دل کو بہلا رہے ہیں

    شب ہجر یوں دل کو بہلا رہے ہیں کہ دن بھر کی بیتی کو دہرا رہے ہیں مرے دل کے ٹکڑے کیے جا رہے ہیں محبت کی تشریح فرما رہے ہیں مرا درد جا ہی نہیں سکتا توبہ خدائی کے دعوے کیے جا رہے ہیں ہنسی آنے کی بات ہے ہنس رہا ہوں مجھے لوگ دیوانہ فرما رہے ہیں عجب شے ہے سوز و گداز محبت کہ دل جلنے میں ...

    مزید پڑھیے

    مرگ عاشق پر فرشتہ موت کا بدنام تھا

    مرگ عاشق پر فرشتہ موت کا بدنام تھا وہ ہنسی روکے ہوئے بیٹھا تھا جس کا کام تھا خون ناحق سے مکرنے کا کہاں ہنگام تھا تیر جتنے دل سے نکلے سب پر ان کا نام تھا کیا بتائی جائیں شام ہجر کی مجبوریاں دل ہمارا تھا نہ ہم دل کے عجب ہنگام تھا ہجر کی دو کروٹوں نے کر دیا قصہ تمام درد دل آغاز تھا ...

    مزید پڑھیے

    کچھ اس انداز سے مانگا گیا دل

    کچھ اس انداز سے مانگا گیا دل خوشامد کر کے دے دینا پڑا دل ارے دل اے میرے دل بے وفا دل تو کیا مانگوں خدا سے دوسرا دل گلے شکوؤں کی کر لیجے صفائی برا کیوں کیجئے اچھا بھلا دل ہوئے خاموش تو رلوا کے چھوڑا اگر کی بات تو برما دیا دل مجھے تو بخشئے اور جینے دیجے مبارک آپ ہی کو آپ کا دل وہ ...

    مزید پڑھیے

    حسرتوں میں اب یہ اک حسرت ہمارے دل میں ہے

    حسرتوں میں اب یہ اک حسرت ہمارے دل میں ہے اتنا کہہ دیجے کہ بے چارہ بڑی مشکل میں ہے ایک موسیٰ تھے کہ ان کا ذکر ہر محفل میں ہے اور اک میں ہوں کہ اب تک میرے دل کی دل میں ہے آج کیوں حد سے سوا الجھن ہمارے دل میں ہے کیا نصیب دشمناں وہ بھی کسی مشکل میں ہے ہے کوئی ایسا جو ساقی سے کہے میرے ...

    مزید پڑھیے

    پھل جائے محبت تو محبت ہے محبت

    پھل جائے محبت تو محبت ہے محبت اور راس نہ آئے تو مصیبت ہے محبت سرمایۂ دیوانۂ الفت ہے محبت اے الٹے ہوئے دل تری قیمت ہے محبت ہے ہم ہی تلک خیر غنیمت ہے محبت ہو جائے انہیں بھی تو قیامت ہے محبت رو رو کے وہ پوچھیں گے مری آنکھ سے آنسو آئیں گے وہ دن بھی جو سلامت ہے محبت بدنام کیا لاکھ ...

    مزید پڑھیے

    گر جذبۂ وحشت کا اے دل یہی عنواں ہے

    گر جذبۂ وحشت کا اے دل یہی عنواں ہے دو روز کا دامن ہے دو دن کا گریباں ہے ہنسنے میں کہ رونے میں مرنے میں کہ جینے میں معلوم نہیں کس میں خوشنودیٔ جاناں ہے ہم وحشیوں کا مسکن کیا پوچھتا ہے ظالم صحرا ہے تو صحرا ہے زنداں ہے تو زنداں ہے زنداں میں خیال اتنا اے دست جنوں رکھنا تا عمر اسیری ...

    مزید پڑھیے

    نام وفا پہ دے کے جان دل نے وفا خرید لی

    نام وفا پہ دے کے جان دل نے وفا خرید لی تھی بھی خریدنے کی چیز خوب کیا خرید لی حسب مذاق و حسب شوق ایک اک ادا خرید لی اس نے جفائیں مول لیں میں نے وفا خرید لی ضبط کا دل میں کر کے عہد ان سے بڑھایا میل جول درد سے پہلے درد کی ہم نے دوا خرید لی عہد شباب تھا بہار اور سجا بہار کو جتنی جہاں ...

    مزید پڑھیے

    ایک نعمت ترے مہجور کے ہاتھ آئی ہے

    ایک نعمت ترے مہجور کے ہاتھ آئی ہے عید کا چاند چراغ شب تنہائی ہے قید میں بس یہ کوئی کہہ دے بہار آئی ہے پھر تو میں ہوں مری زنجیر ہے انگڑائی ہے کتنا دلچسپ ہے اللہ مرا قصۂ غم آج کوئی نہیں کہتا مجھے نیند آئی ہے زہر اور زہر کی تاثیر بتانے والے اب سمجھ لے کہ نہ سودا ہے نہ سودائی ہے صبح ...

    مزید پڑھیے

    درد ہو دل میں تو دوا کیجے

    درد ہو دل میں تو دوا کیجے اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے غم میں کچھ غم کا مشغلا کیجے درد کی درد سے دوا کیجے آپ اور عہد پر وفا کیجے توبہ توبہ خدا خدا کیجے دیکھتا ہوں جو حشر کے آثار اپنے تیور ملاحظہ کیجے نظر التفات بن گئی موت مری قسمت کو آپ کیا کیجے دیکھیے مقتضائے حال مریض اب دوا ...

    مزید پڑھیے

    خون دل ہوتا ہے ہونے دیجئے

    خون دل ہوتا ہے ہونے دیجئے اب رلایا ہے تو رونے دیجئے کچھ تو ہلکا دل کو ہونے دیجئے جی بھرا آتا ہے رونے دیجئے آہ دل سے لب تک آ سکتی نہیں درد ہوتا ہے تو ہونے دیجئے آپ کو اپنا بنانے میں ہے عار پھر مجھے میرا ہی ہونے دیجئے کیجئے کیوں مردہ ارمانوں سے چھیڑ سونے والوں کو تو سونے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3