ہم اپنے آپ کی پہچان لے کے آئے ہیں
ہم اپنے آپ کی پہچان لے کے آئے ہیں نئے سخن نئے امکان لے کے آئے ہیں ہوا نے وار کیا تو جواب پائے گی کہ ہم چراغ بھی طوفان لے کے آئے ہیں چراغ قرب سے کر دیجئے انہیں روشن بجھے بجھے سے کچھ ارمان لے کے آئے ہیں جواب دے نہ سکے گا ہماری باتوں کا کہ آپ آئنہ حیران لے کے آئے ہیں ان آنسوؤں کا ...