Manzar Bhopali

منظر بھوپالی

منظر بھوپالی کی غزل

    ہم اپنے آپ کی پہچان لے کے آئے ہیں

    ہم اپنے آپ کی پہچان لے کے آئے ہیں نئے سخن نئے امکان لے کے آئے ہیں ہوا نے وار کیا تو جواب پائے گی کہ ہم چراغ بھی طوفان لے کے آئے ہیں چراغ قرب سے کر دیجئے انہیں روشن بجھے بجھے سے کچھ ارمان لے کے آئے ہیں جواب دے نہ سکے گا ہماری باتوں کا کہ آپ آئنہ حیران لے کے آئے ہیں ان آنسوؤں کا ...

    مزید پڑھیے

    گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو

    گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو ملا ہم کو ہمارا ہی تماشا دیکھنے کو کھڑے ہیں راہ چلتے لوگ کتنی خامشی سے سڑک پر مرنے والوں کا تماشا دیکھنے کو بہت سے آئینہ خانے ہیں اسی بستی میں لیکن ترستی ہے ہماری آنکھ چہرہ دیکھنے کو کمانوں میں کھنچے ہیں تیر تلواریں ہیں چمکی ذرا ٹھہرو ...

    مزید پڑھیے

    اک مکاں اور بلندی پہ بنانے نہ دیا

    اک مکاں اور بلندی پہ بنانے نہ دیا ہم کو پرواز کا موقع ہی ہوا نے نہ دیا تو خدا بن کے مٹائے گا ہمیں ہی اک دن سر ترے در پہ اسی ڈر نے جھکانے نہ دیا متحد ہونے کا جذبہ تھا سبھی میں لیکن متحد ہونے کا موقعہ ہی ہوا نے نہ دیا تم پہ چھا جاتے شجر بنتے جو ننھے پودے تم نے اچھا ہی کیا پاؤں جمانے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتا جانتی ہے

    کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتا جانتی ہے کس طرف آگ لگانا ہے ہوا جانتی ہے اجلے کپڑوں میں رہو یا کہ نقابیں ڈالو تم کو ہر رنگ میں یہ خلق خدا جانتی ہے روک پائے گی نہ زنجیر نہ دیوار کوئی اپنی منزل کا پتہ آہ رسا جانتی ہے ٹوٹ جاؤں گا بکھر جاؤں گا ہاروں گا نہیں میری ہمت کو زمانے کی ہوا جانتی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2