Manzar Bhopali

منظر بھوپالی

منظر بھوپالی کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے

    ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے اسی میں وقت کا سارا حساب لکھا ہے کچھ اور کام تو ہم سے نہ ہو سکا لیکن تمہارے ہجر کا اک اک عذاب لکھا ہے سلوک نشتروں جیسا نہ کیجئے ہم سے ہمیشہ آپ کو ہم نے گلاب لکھا ہے ترے وجود کو محسوس عمر بھر ہوگا ترے لبوں پہ جو ہم نے جواب لکھا ہے ہوا فساد تو اس ...

    مزید پڑھیے

    اس کو پہلی بار خط لکھا تو دل دھڑکا بہت

    اس کو پہلی بار خط لکھا تو دل دھڑکا بہت کیا جواب آئے گا کیسے آئے گا ڈر تھا بہت جان دے دیں گے اگر دنیا نے روکا راستہ اور کوئی حل نہ نکلا ہم نے تو سوچا بہت اب سمجھ لیتے ہیں میٹھے لفظ کی کڑواہٹیں ہو گیا ہے زندگی کا تجربہ تھوڑا بہت سوچ لو پہلے ہمارے ہاتھ میں پھر ہاتھ دو عشق والوں کے ...

    مزید پڑھیے

    سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا

    سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا قلق تھا سب کو سمندر کی بے قراری کا کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا کچوکے کے دیتی رہیں غربتیں مجھے لیکن مری انا نے کسی کی طرف نہیں دیکھا سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم کہ پھر کسی نے کسی کی طرف نہیں ...

    مزید پڑھیے

    وطن نصیب کہاں اپنی قسمتیں ہوں گی

    وطن نصیب کہاں اپنی قسمتیں ہوں گی جہاں بھی جائیں گے ہم ساتھ ہجرتیں ہوں گی کبھی تو صاحب دیوار و در بنیں گے ہم کبھی تو سر پہ ہمارے نئی چھتیں ہوں گی یہ اشک تیرے مرے رائیگاں نہ جائیں گے انہیں چراغوں سے روشن محبتیں ہوں گی تری ادا میں ہے انکار بھی اجازت بھی جو ہم ملیں گے تو دوری نہ ...

    مزید پڑھیے

    زندگی جینے کا پہلے حوصلہ پیدا کرو

    زندگی جینے کا پہلے حوصلہ پیدا کرو صرف اونچے خوب صورت خواب مت دیکھا کرو دکھ اندھیروں کا اگر مٹتا نہیں ہے ذہن سے رات کے دامن کو اپنے خون سے اجلا کرو خود کو پوشیدہ نہ رکھو بند کلیوں کی طرح پھول کہتے ہیں تمہیں سب لوگ تو مہکا کرو زندگی کے نام لیوا موت سے ڈرتے نہیں حادثوں کا خوف لے ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    اردو

    زبان ہند ہے اردو تو ماتھے کی شکن کیوں ہے وطن میں بے وطن کیوں ہے مری مظلوم اردو تیری سانسوں میں گھٹن کیوں ہے تیرا لہجہ مہکتا ہے تو لفظوں میں تھکن کیوں ہے اگر تو پھول ہے تو پھول میں اتنی چبھن کیوں ہے وطن میں بے وطن کیوں ہے یہ نانکؔ کی یہ خسروؔ کی دیاشنکرؔ کی بولی ہے یہ دیوالی یہ ...

    مزید پڑھیے