Manzar Bhopali

منظر بھوپالی

منظر بھوپالی کی غزل

    ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے

    ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے اسی میں وقت کا سارا حساب لکھا ہے کچھ اور کام تو ہم سے نہ ہو سکا لیکن تمہارے ہجر کا اک اک عذاب لکھا ہے سلوک نشتروں جیسا نہ کیجئے ہم سے ہمیشہ آپ کو ہم نے گلاب لکھا ہے ترے وجود کو محسوس عمر بھر ہوگا ترے لبوں پہ جو ہم نے جواب لکھا ہے ہوا فساد تو اس ...

    مزید پڑھیے

    اس کو پہلی بار خط لکھا تو دل دھڑکا بہت

    اس کو پہلی بار خط لکھا تو دل دھڑکا بہت کیا جواب آئے گا کیسے آئے گا ڈر تھا بہت جان دے دیں گے اگر دنیا نے روکا راستہ اور کوئی حل نہ نکلا ہم نے تو سوچا بہت اب سمجھ لیتے ہیں میٹھے لفظ کی کڑواہٹیں ہو گیا ہے زندگی کا تجربہ تھوڑا بہت سوچ لو پہلے ہمارے ہاتھ میں پھر ہاتھ دو عشق والوں کے ...

    مزید پڑھیے

    سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا

    سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا قلق تھا سب کو سمندر کی بے قراری کا کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا کچوکے کے دیتی رہیں غربتیں مجھے لیکن مری انا نے کسی کی طرف نہیں دیکھا سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم کہ پھر کسی نے کسی کی طرف نہیں ...

    مزید پڑھیے

    وطن نصیب کہاں اپنی قسمتیں ہوں گی

    وطن نصیب کہاں اپنی قسمتیں ہوں گی جہاں بھی جائیں گے ہم ساتھ ہجرتیں ہوں گی کبھی تو صاحب دیوار و در بنیں گے ہم کبھی تو سر پہ ہمارے نئی چھتیں ہوں گی یہ اشک تیرے مرے رائیگاں نہ جائیں گے انہیں چراغوں سے روشن محبتیں ہوں گی تری ادا میں ہے انکار بھی اجازت بھی جو ہم ملیں گے تو دوری نہ ...

    مزید پڑھیے

    زندگی جینے کا پہلے حوصلہ پیدا کرو

    زندگی جینے کا پہلے حوصلہ پیدا کرو صرف اونچے خوب صورت خواب مت دیکھا کرو دکھ اندھیروں کا اگر مٹتا نہیں ہے ذہن سے رات کے دامن کو اپنے خون سے اجلا کرو خود کو پوشیدہ نہ رکھو بند کلیوں کی طرح پھول کہتے ہیں تمہیں سب لوگ تو مہکا کرو زندگی کے نام لیوا موت سے ڈرتے نہیں حادثوں کا خوف لے ...

    مزید پڑھیے

    پڑے ہیں زخم خوردہ مہربانی مانگنے والے

    پڑے ہیں زخم خوردہ مہربانی مانگنے والے بہت نادم ہیں اس سے زندگانی مانگنے والے یہاں تو سب کی خواہش ایک سی ہے روٹیاں، سکے میرے یگ میں نہیں خواب جوانی مانگنے والے کوئی تخلیق ہو خون جگر سے جنم لیتی ہے کہانی لکھ نہیں سکتے کہانی مانگنے والے لگائیں جو سروں کی بازیاں یہ کام ان کا ...

    مزید پڑھیے

    ستم گروں کے ستم کی اڑان کچھ کم ہے

    ستم گروں کے ستم کی اڑان کچھ کم ہے ابھی زمیں کے لئے آسمان کچھ کم ہے جو اس خیال کو بھولے تو مارے جاؤ گے کہ اپنی سمت قیامت کا دھیان کچھ کم ہے ہمارے شہر میں سب خیر و عافیت ہے مگر یہی کمی ہے کہ امن و امان کچھ کم ہے بنا رہا ہے فلک بھی عذاب میرے لئے تیری زمین پہ کیا امتحان کچھ کم ہے ابھی ...

    مزید پڑھیے

    آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی

    آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی خشک موسم تھا مگر ٹوٹ کے برسات ہوئی دن بھی ڈوبا کہ نہیں یہ مجھے معلوم نہیں جس جگہ بجھ گئے آنکھوں کے دئے رات ہوئی کوئی حسرت کوئی ارماں کوئی خواہش ہی نہ تھی ایسے عالم میں مری خود سے ملاقات ہوئی ہو گیا اپنے پڑوسی کا پڑوسی دشمن آدمیت بھی یہاں نذر ...

    مزید پڑھیے

    زلف و رخ کے سائے میں زندگی گزاری ہے

    زلف و رخ کے سائے میں زندگی گزاری ہے دھوپ بھی ہماری ہے چھاؤں بھی ہماری ہے غم گسار چہروں پر اعتبار مت کرنا شہر میں سیاست کے دوست بھی شکاری ہے موڑ لینے والی ہے، زندگی کوئی شاید اب کے پھر ہواؤں میں ایک بے قراری ہے حال خوں میں ڈوبا ہے کل نہ جانے کیا ہوگا اب یہ خوف مستقبل ذہن ذہن طاری ...

    مزید پڑھیے

    تم ہو محفل میں تو میری چشم تر دیکھے گا کون

    تم ہو محفل میں تو میری چشم تر دیکھے گا کون چاند کے آگے بھلا داغ جگر دیکھے گا کون یاد کے سوکھے گلابوں سے سجا ہے دل کا باغ زخم یہ گزرے دنوں کے اب مگر دیکھے گا کون آپ ہی کی ہے عدالت آپ ہی منصف بھی ہیں یہ تو کہیے آپ کے عیب و ہنر دیکھے گا کون میں ہی اپنا محتسب بن جاؤں ورنہ دوستو گمرہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2