منصور عثمانی کی غزل

    میں ہوں خاموش مگر بول رہا ہے مجھ میں

    میں ہوں خاموش مگر بول رہا ہے مجھ میں ایسا لگتا ہے کوئی اور چھپا ہے مجھ میں مجھ سے دلی کی نہیں دل کی کہانی سنئے شہر تو یہ بھی کئی بار لٹا ہے مجھ میں تجھ کو چاہت ہے وفا کی تو مجھے غور سے پڑھ وہ کتابوں میں کہاں ہے جو لکھا ہے مجھ میں مسکراتا ہوا مقتل سے گزر آیا ہوں زندگی تیری کوئی خاص ...

    مزید پڑھیے

    دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے

    دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے ہم اپنی پیاس جا کے سمندر میں ڈال آئے جو پھانس چبھ رہی ہے دلوں میں وہ تو نکال جو پاؤں میں چبھی تھی اسے ہم نکال آئے کچھ اس طرح سے ذکر تباہی سنائیے آنکھوں میں خون آئے نہ شیشے میں بال آئے سمجھو کہ زندگی کی وہیں شام ہو گئی کردار بیچنے کا جہاں بھی ...

    مزید پڑھیے

    تشنگی دل کی بجھانا تو خبر کر دینا

    تشنگی دل کی بجھانا تو خبر کر دینا اشک آنکھوں میں چھپانا تو خبر کر دینا ہم نے کچھ گیت لکھے ہیں جو سنانا ہیں تمہیں تم کبھی بزم سجانا تو خبر کر دینا حادثے راہ محبت کا مقدر ٹھہرے جب ہمیں دل سے بھلانا تو خبر کر دینا جن کتابوں میں چھپائے ہیں مرے خط تم نے ان کتابوں کو جلانا تو خبر کر ...

    مزید پڑھیے

    حالات کیا یہ تیرے بچھڑنے سے ہو گئے

    حالات کیا یہ تیرے بچھڑنے سے ہو گئے لگتا ہے جیسے ہم کسی میلے میں کھو گئے آنکھیں برس گئیں تو سکوں دل کو مل گیا بادل تو صرف سوکھی زمینیں بھگو گئے کتنی کہانیوں سے ملا زندگی کو حسن کتنے فسانے وقت کی چادر میں سو گئے آنکھوں سے نیند روٹھی تو نقصان یہ ہوا میرے ہزاروں خواب مرے دل میں سو ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

    آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے برسات کے موسم میں ستارے نکل آئے تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا احساس مگر اب جینے کے لئے اور سہارے نکل آئے میں نے تو یونہی ذکر وفا چھیڑ دیا تھا بے ساختہ کیوں اشک تمہارے نکل آئے جب میں نے سفینے میں ترا نام لیا ہے طوفان کی باہوں سے کنارے نکل آئے ہم جاں تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2