منصور عثمانی کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا

    کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا میں ترا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا دل سے تم جا تو رہے ہو مگر اتنا سن لو یہ دریچہ کبھی دیوار نہیں ہو سکتا رسم اظہار محبت میں ضروری ہی سہی یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا وصل کی چاہ کروں ہجر میں بھی آہ بھروں یہ مرے عشق کا معیار نہیں ہو سکتا اپنی ...

    مزید پڑھیے

    گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا

    گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا پھولوں کا رنگ لال تجھے دیکھ کر ہوا مدت کے بعد آج ملے ہیں تو جان من دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا آؤ ہم آج چاند کا قرضہ اتار دیں تاروں کو یہ خیال تجھے دیکھ کر ہوا خوشبو سے کس زبان میں باتیں کریں گے لوگ محفل میں یہ سوال تجھے دیکھ کر ہوا اشکوں سے ...

    مزید پڑھیے

    ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی

    ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی ستم زدہ بھی ستم گر بھی میں بھی دنیا بھی خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی وہ ایک لمحہ کہ ہم سب لپٹ کے روئے تھے اداس رات کا منظر بھی میں بھی دنیا بھی دعائیں مانگتے رہتے ہیں تجھ سے ملنے کی اداس اداس ...

    مزید پڑھیے

    دل میں یوں پیار کی اک تازہ کہانی مہکے

    دل میں یوں پیار کی اک تازہ کہانی مہکے جیسے آنگن مین کہیں رات کی رانی مہکے میں نے لفظوں کو کہاں اس کی طرف موڑا ہے ذکر آ جائے جو اس کا تو کہانی مہکے سر سے پا تک اسے خوشبو کا خزانہ کہیے بیٹھے دریا میں اتر جائے تو پانی مہکے غم کی صدیوں کی امانت ہے غزل کی تہذیب میرؔ کے بعد اسی رنگ ...

    مزید پڑھیے

    بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو

    بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو پاگل ہوئی ہے اب کے ہوا جاگتے رہو سجدوں میں ہے خلوص تو پھر چاندنی کے ساتھ اترے گا آنگنوں میں خدا جاگتے رہو الفاظ سو نہ جائیں کتابوں کو اوڑھ کر دانشوران قوم ذرا جاگتے رہو کیسا عجیب شور ہے بستی میں آج کل ہر گھر سے آ رہی ہے صدا جاگتے رہو پہلے تو اس کی ...

    مزید پڑھیے

تمام