منصور عثمانی کی غزل

    کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا

    کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا میں ترا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا دل سے تم جا تو رہے ہو مگر اتنا سن لو یہ دریچہ کبھی دیوار نہیں ہو سکتا رسم اظہار محبت میں ضروری ہی سہی یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا وصل کی چاہ کروں ہجر میں بھی آہ بھروں یہ مرے عشق کا معیار نہیں ہو سکتا اپنی ...

    مزید پڑھیے

    گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا

    گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا پھولوں کا رنگ لال تجھے دیکھ کر ہوا مدت کے بعد آج ملے ہیں تو جان من دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا آؤ ہم آج چاند کا قرضہ اتار دیں تاروں کو یہ خیال تجھے دیکھ کر ہوا خوشبو سے کس زبان میں باتیں کریں گے لوگ محفل میں یہ سوال تجھے دیکھ کر ہوا اشکوں سے ...

    مزید پڑھیے

    ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی

    ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی ستم زدہ بھی ستم گر بھی میں بھی دنیا بھی خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی وہ ایک لمحہ کہ ہم سب لپٹ کے روئے تھے اداس رات کا منظر بھی میں بھی دنیا بھی دعائیں مانگتے رہتے ہیں تجھ سے ملنے کی اداس اداس ...

    مزید پڑھیے

    دل میں یوں پیار کی اک تازہ کہانی مہکے

    دل میں یوں پیار کی اک تازہ کہانی مہکے جیسے آنگن مین کہیں رات کی رانی مہکے میں نے لفظوں کو کہاں اس کی طرف موڑا ہے ذکر آ جائے جو اس کا تو کہانی مہکے سر سے پا تک اسے خوشبو کا خزانہ کہیے بیٹھے دریا میں اتر جائے تو پانی مہکے غم کی صدیوں کی امانت ہے غزل کی تہذیب میرؔ کے بعد اسی رنگ ...

    مزید پڑھیے

    بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو

    بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو پاگل ہوئی ہے اب کے ہوا جاگتے رہو سجدوں میں ہے خلوص تو پھر چاندنی کے ساتھ اترے گا آنگنوں میں خدا جاگتے رہو الفاظ سو نہ جائیں کتابوں کو اوڑھ کر دانشوران قوم ذرا جاگتے رہو کیسا عجیب شور ہے بستی میں آج کل ہر گھر سے آ رہی ہے صدا جاگتے رہو پہلے تو اس کی ...

    مزید پڑھیے

    آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا

    آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے کچھ آنسوؤں نے پیار کو بد نام کر دیا جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بک گئے ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا دل کو بچا کے رکھا تھا دنیا سے آج تک لے آج ہم نے یہ بھی ترے نام کر دیا تم ...

    مزید پڑھیے

    خود آپ اپنی زد میں ستم گر بھی آئے گا

    خود آپ اپنی زد میں ستم گر بھی آئے گا تم منتظر رہو کہ یہ منظر بھی آئے گا اس ریت کے نگر کو نہ گھبراؤ دیکھ کر آگے بڑھو کہ ایک سمندر بھی آئے گا خوشبو کا قافلہ یہ بہاروں کا سلسلہ پہنچا ہے شہر تک تو مرے گھر بھی آئے گا چلتے ہو میرے ساتھ تو اتنا بھی سوچ لو راہوں میں میری غم کا سمندر بھی ...

    مزید پڑھیے

    مسافت منزلوں کی جب ہمارے سر پہ رکھی تھی

    مسافت منزلوں کی جب ہمارے سر پہ رکھی تھی فلک کاندھوں پہ رکھا تھا زمیں ٹھوکر پہ رکھی تھی ہمارے پیار کی شہرت ہوئی تھی یوں زمانے میں ورق سڑکوں پہ بکھرے تھے کہانی گھر پہ رکھی تھی کیا ہے حرف حق ہم نے ادا کچھ اس قرینے سے نظر قاتل پہ رکھی تھی زباں خنجر پہ رکھی تھی تجھے پانے کی الجھن ...

    مزید پڑھیے

    اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی

    اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی جرم اور طرح کے ہیں سزا اور طرح کی اس بار تو پیمانہ اٹھایا بھی نہیں تھا اس بار تھی رندوں کی خطا اور طرح کی ہم آنکھوں میں آنسو نہیں لاتے ہیں کہ ہم نے پائی ہے وراثت میں ادا اور طرح کی اس بات پہ ناراض تھا ساقی کہ سر بزم کیوں آئی پیالوں سے صدا اور طرح ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

    ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے جگمگاتے ہیں ترے نقش قدم رات گئے کیا بتائیں جو گزرتی ہے ہمارے دل پر یاد آتے ہیں جب اپنوں کے ستم رات گئے غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا جاگ اٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے روز آتے ہیں صدا دے کے چلے جاتے ہیں دل کے دروازے پہ کچھ اہل کرم رات ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2