مرحوم
کبھی تصویر سے باہر نکل کر بول بھی اٹھو ہمیشہ ایک سا چہرہ لئے کیوں تکتے رہتے ہو ذرا ہونٹوں کو جنبش اور لفظوں کو رہائی دو اکیلا پڑ گیا ہوں میں ذرا میری صفائی دو ماں اکثر میری کھانسی پر تمہارا دھوکا کھاتی ہے یہ بڑ کی میری اک عادت تمہاری سی بتاتی ہے تمہاری یاد آتی ہے کبھی پوچھو کہ ...