یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اتارے گئے
یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اتارے گئے تمہارے بعد کے موسم فقط گزارے گئے ذرا سی دور تو سیلاب کے سہارے گئے بھنور میں الجھے تو پھر ہاتھ پانو مارے گئے صدا کا دیر تلک گونجنا بہت بھایا پھر ایک نام بیاباں میں ہم پکارے گئے چھپا چھپا کے جو راتوں نے خواب رکھے تھے وہ سارے دن کے اجالوں کے ...