منوج اظہر کی غزل

    یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اتارے گئے

    یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اتارے گئے تمہارے بعد کے موسم فقط گزارے گئے ذرا سی دور تو سیلاب کے سہارے گئے بھنور میں الجھے تو پھر ہاتھ پانو مارے گئے صدا کا دیر تلک گونجنا بہت بھایا پھر ایک نام بیاباں میں ہم پکارے گئے چھپا چھپا کے جو راتوں نے خواب رکھے تھے وہ سارے دن کے اجالوں کے ...

    مزید پڑھیے

    رات سائے سے بھی جھگڑا کر لیا

    رات سائے سے بھی جھگڑا کر لیا خود کو بالکل ہی اکیلا کر لیا بھولنے کی ضد میں یہ کیا کر لیا رنگ ہی یادوں کا پکا کر لیا وہ بھی ہم سے اجنبی بن کر ملا ہم نے بھی لہجے کو سادہ کر لیا ہاتھ ملتے رہ گئے سارے بھنور اور کشتی نے کنارا کر لیا رات بے سدھ ہو کے سوئے گی یہاں اس لئے سورج نے پردہ کر ...

    مزید پڑھیے