Manohar Sahaye Anwar

منوہر سہائے انور

  • 1900 - 1974

منوہر سہائے انور کی غزل

    وہاں پیغامبر جاتا کہاں ہے

    وہاں پیغامبر جاتا کہاں ہے نہیں معلوم مر جاتا کہاں ہے تم اپنے ہاتھ سے جس کو پلا دو وہ اپنے آپ گھر جاتا کہاں ہے ادھر تو دیکھ او پتلے حیا کے کئے نیچی نظر جاتا کہاں ہے وہ کیوں مجھ کو منائیں جانتے ہیں چلا تو ہے مگر جاتا کہاں ہے کہاں ہیں با خبر دیر و حرم میں ارے او بے خبر جاتا کہاں ...

    مزید پڑھیے

    میرے ہر ایک سانس میں شرکت ہے آہ کی

    میرے ہر ایک سانس میں شرکت ہے آہ کی کھائے ہوئے ہوں چوٹ تمہاری نگاہ کی کیا رخ بدل بدل کے مجھ آشفتہ حال پر پرچھائیاں پڑیں تری زلف سیاہ کی بڑھتی گئی گناہ کی لذت گناہ میں پڑتی گئی گناہ سے عادت گناہ کی سب کچھ نباہنا ہے بہت سہل آج کل یعنی نباہ شرط نہیں ہے نباہ کی انجام آشکار ہے مجھ غم ...

    مزید پڑھیے

    نہ الٹی اس نے محفل میں نقاب اول سے آخر تک

    نہ الٹی اس نے محفل میں نقاب اول سے آخر تک رہی پھر بھی تجلیٔ برق تاب اول سے آخر تک اٹھاتا ہوں نظر جب جانب افلاک مستی میں تو اٹھ جاتے ہیں یہ ساتوں حجاب اول سے آخر تک وہ آئیں گے نہیں آئے خط آئے گا نہیں آیا غلط نکلی مری تعبیر خواب اول سے آخر تک ہوئی ہر بار میری باریوں پر بھول ساقی ...

    مزید پڑھیے