میرے ہر ایک سانس میں شرکت ہے آہ کی
میرے ہر ایک سانس میں شرکت ہے آہ کی
کھائے ہوئے ہوں چوٹ تمہاری نگاہ کی
کیا رخ بدل بدل کے مجھ آشفتہ حال پر
پرچھائیاں پڑیں تری زلف سیاہ کی
بڑھتی گئی گناہ کی لذت گناہ میں
پڑتی گئی گناہ سے عادت گناہ کی
سب کچھ نباہنا ہے بہت سہل آج کل
یعنی نباہ شرط نہیں ہے نباہ کی
انجام آشکار ہے مجھ غم نصیب کا
لی ہے پناہ تیرے غم بے پناہ کی