وہاں پیغامبر جاتا کہاں ہے
وہاں پیغامبر جاتا کہاں ہے
نہیں معلوم مر جاتا کہاں ہے
تم اپنے ہاتھ سے جس کو پلا دو
وہ اپنے آپ گھر جاتا کہاں ہے
ادھر تو دیکھ او پتلے حیا کے
کئے نیچی نظر جاتا کہاں ہے
وہ کیوں مجھ کو منائیں جانتے ہیں
چلا تو ہے مگر جاتا کہاں ہے
کہاں ہیں با خبر دیر و حرم میں
ارے او بے خبر جاتا کہاں ہے
ادھر مسجد ادھر مے خانہ اے شیخ
ادھر آ کر ادھر جاتا کہاں ہے
کہا اس نے ہمارا خط چھپا کر
جو آتا تو کدھر جاتا کہاں ہے