بدلتے وقت کی رفتار کیا ہے
بدلتے وقت کی رفتار کیا ہے محبت اب ترا کردار کیا ہے زمیں کو چھو رہا ہے آسماں اب طلب کی راہ میں پیکار کیا ہے کٹا کر سر بھی مرتا ہی نہیں وقت ہوا کے ہاتھ میں تلوار کیا ہے بھلا بیٹھا ہوں میں خود کو بھی لوگو مرے کاندھوں پہ اب یہ بار کیا ہے ازل سے ہے مری فطرت میں جھکنا تو پھر سجدوں سے ...