خوابوں سے رت جگوں کا گزر ہے کہاں ابھی

خوابوں سے رت جگوں کا گزر ہے کہاں ابھی
رستہ کسی طلب کا دگر ہے کہاں ابھی


دن دن ہے رات رات ہے ہستی کے واسطے
پرتو سے آئنے کو مفر ہے کہاں ابھی


یہ سچ ہے کٹ گیا ہے اندھیرا تو شام کا
آنکھوں میں سحر ساز سحر ہے کہاں ابھی


خود ساختہ سراب میں ہے عشق گامزن
حسن خرام محو سفر ہے کہاں ابھی


کرتا ہے بات بات پہ اس کی ہی بات کیوں
آگاہ اپنے دل سے بشر ہے کہاں ابھی


صحرا تکے ہے راہ سمندر کی رات دن
ذرات کی دعا میں اثر ہے کہاں ابھی


آئینے میں سجائے تمنا کی آگہی
دل کا نصیب ایسی نظر ہے کہاں ابھی


سرمست ہو کے رقص کرے موج دل میں جاں
گھنگھرو کا رشک کوئی بھنور ہے کہاں ابھی


روزن کو جانتا ہے مہ و مہر کا مدار
ایمنؔ کو روشنی کی خبر ہے کہاں ابھی