بدلتے وقت کی رفتار کیا ہے
بدلتے وقت کی رفتار کیا ہے
محبت اب ترا کردار کیا ہے
زمیں کو چھو رہا ہے آسماں اب
طلب کی راہ میں پیکار کیا ہے
کٹا کر سر بھی مرتا ہی نہیں وقت
ہوا کے ہاتھ میں تلوار کیا ہے
بھلا بیٹھا ہوں میں خود کو بھی لوگو
مرے کاندھوں پہ اب یہ بار کیا ہے
ازل سے ہے مری فطرت میں جھکنا
تو پھر سجدوں سے مجھ کو عار کیا ہے
انا الحق سے ابھی واقف نہیں میں
مجھے معلوم کب ہے دار کیا ہے
مجھے ہے فخر میں خاکی ہوں میری
نظر میں نور کیا ہے تار کیا ہے
صبا سے پوچھتا پھرتا ہوں ایمنؔ
وفا میں پھول کیا ہے خار کیا ہے