Mamnoon Nizamuddin

ممنونؔ نظام الدین

ممنونؔ نظام الدین کی غزل

    رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کا

    رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کا یہ حوصلہ ہے کوئی بلبے حوصلہ دل کا عبث نہیں ہے یہ وابستۂ پریشانی کسی کی زلف کو پہنچے ہے سلسلہ دل کا ہجوم غمزہ و خیل کرشمہ لشکر ناز عجب سپاہ سے ٹھہرا مقابلہ دل کا کہوں میں کیا کہ ہوا کیسے بے جگہ مائل ہے اپنے بخت کا شکوہ نہیں گلہ دل کا شب فراق نے ...

    مزید پڑھیے

    جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کا

    جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کا حیا میں زور دیا رنگ مہربانی کا جئے ہیں گرم نفس سوز سے کہ بہر چراغ کرے ہے شعلہ ہی کام آب زندگانی کا تبسم لب غنچہ کو دیکھ روتا ہوں کہ ٹھیک رنگ ہے اس خندۂ نہانی کا کہاں سے زور دل و سینہ و جگر لاؤں تمہیں تو کھیل لگا ہاتھ تیغ رانی کا الٰہی جیب کہ ...

    مزید پڑھیے

    کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شب

    کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شب ایک ایک بات پر تھی لڑائی تمام شب یہ بھی ہے ظلم تو کہ اسے وصل میں رہا ذکر طلوع صبح جدائی تمام شب کس بے ادب کو عرض ہوس ہر نگہ میں تھی آنکھ اس نے بزم میں نہ اٹھائی تمام شب یاں التماس شوق وہاں احتراز ناز مشکل ہوئی تھی عہدہ برائی تمام شب کیا سر پہ ...

    مزید پڑھیے

    تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھا

    تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھا جو پردہ تھا حائل اٹھایا تو دیکھا یہ سب تیرے ہی حسن کا پرتو ہے نہ دیکھا تجھے تیرا سایا تو دیکھا برا مانیے مت مرے دیکھنے سے تمہیں حق نے ایسا بنایا تو دیکھا نہ ہوں کیونکہ ممنونؔ پیر مغاں کا یہ عالم جو ساغر پلایا تو دیکھا

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2