Mamnoon Nizamuddin

ممنونؔ نظام الدین

ممنونؔ نظام الدین کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحث

    ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحث ایک ایک بات پر تھی اسے شب ہزار بحث لائے ہے کھینچ آرزوئے زخم دور سے کہو وار پر نہ قاتل خنجر گزار بحث حیرت زدوں کو محفل تصویر کی طرح نے ہے شعار رمز و کنایہ نہ کار بحث یا ذکر دوست یا ہے زباں پر حدیث عشق جوں اہل مدرسہ نہیں اپنا شعار بحث تکرار سے دل ...

    مزید پڑھیے

    جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جا

    جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جا تو سو چکا میں فراغت سے بس مزار میں جا تمام درد ہوں معلوم کچھ نہیں کہ کہاں ترے خدنگ نے کی ہے تن نزار میں جا یہی تو رزق ہے بعد فنا مرا ظالم سمجھ کے برق شرربار خارزار میں جا قدم سمجھ کے تو رکھ تشنگان حسرت سے تہی نہیں ہے ٹک الفت کی رہ گزار میں ...

    مزید پڑھیے

    تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کا

    تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کا شگاف پردہ سے کیا تھا اشارہ چشم فتاں کا سنا ہے کب یہ چھٹتی ہے پکڑ گوشہ نہ داماں کا سمجھ کاجل نہ پھیلا سایہ ہے تیری ہی مژگاں کا یہاں دم کھینچنا دو دوپہر مشکل ہے ہو جاتا دھواں گھٹتا ہے جب سینہ میں اپنی آہ سوزاں کا نہ کی غمزہ نے جلادی نہ ان ...

    مزید پڑھیے

    ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سے (ردیف .. ث)

    ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سے جنازے کی وگرنہ واں ہے تیاری کا کیا باعث کہیں وقت خطاب اے یار اپنے منہ سے نکلا تھا لگا کہنے کہ مجھ میں آپ میں یاری کا کیا باعث مریض اپنے کو دیکھا آہ خوں آلودہ کیا کیا تھے نہ تھا گر درد دل میں نالہ و زاری کا کیا باعث نہیں کچھ زور سے لیتا کوئی دل ...

    مزید پڑھیے

    کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کا

    کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کا وا جنبش دم سے ہے رفو زخم کہن کا بیتابی دل تیرے شہیدوں کی کہاں جائے کچھ کم رگ بسمل سے نہیں تار کفن کا دیتا ہے پھر آئینے کو کس واسطے بوسہ وہ آپ جو دل دادہ نہیں اپنے دہن کا مانند حباب آپ کیا عشق نے ممنوںؔ پایا نہ نشاں جامہ میں اپنے کہیں تن کا

    مزید پڑھیے

تمام