Mamnoon Nizamuddin

ممنونؔ نظام الدین

ممنونؔ نظام الدین کی غزل

    ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحث

    ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحث ایک ایک بات پر تھی اسے شب ہزار بحث لائے ہے کھینچ آرزوئے زخم دور سے کہو وار پر نہ قاتل خنجر گزار بحث حیرت زدوں کو محفل تصویر کی طرح نے ہے شعار رمز و کنایہ نہ کار بحث یا ذکر دوست یا ہے زباں پر حدیث عشق جوں اہل مدرسہ نہیں اپنا شعار بحث تکرار سے دل ...

    مزید پڑھیے

    جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جا

    جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جا تو سو چکا میں فراغت سے بس مزار میں جا تمام درد ہوں معلوم کچھ نہیں کہ کہاں ترے خدنگ نے کی ہے تن نزار میں جا یہی تو رزق ہے بعد فنا مرا ظالم سمجھ کے برق شرربار خارزار میں جا قدم سمجھ کے تو رکھ تشنگان حسرت سے تہی نہیں ہے ٹک الفت کی رہ گزار میں ...

    مزید پڑھیے

    تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کا

    تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کا شگاف پردہ سے کیا تھا اشارہ چشم فتاں کا سنا ہے کب یہ چھٹتی ہے پکڑ گوشہ نہ داماں کا سمجھ کاجل نہ پھیلا سایہ ہے تیری ہی مژگاں کا یہاں دم کھینچنا دو دوپہر مشکل ہے ہو جاتا دھواں گھٹتا ہے جب سینہ میں اپنی آہ سوزاں کا نہ کی غمزہ نے جلادی نہ ان ...

    مزید پڑھیے

    ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سے (ردیف .. ث)

    ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سے جنازے کی وگرنہ واں ہے تیاری کا کیا باعث کہیں وقت خطاب اے یار اپنے منہ سے نکلا تھا لگا کہنے کہ مجھ میں آپ میں یاری کا کیا باعث مریض اپنے کو دیکھا آہ خوں آلودہ کیا کیا تھے نہ تھا گر درد دل میں نالہ و زاری کا کیا باعث نہیں کچھ زور سے لیتا کوئی دل ...

    مزید پڑھیے

    کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کا

    کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کا وا جنبش دم سے ہے رفو زخم کہن کا بیتابی دل تیرے شہیدوں کی کہاں جائے کچھ کم رگ بسمل سے نہیں تار کفن کا دیتا ہے پھر آئینے کو کس واسطے بوسہ وہ آپ جو دل دادہ نہیں اپنے دہن کا مانند حباب آپ کیا عشق نے ممنوںؔ پایا نہ نشاں جامہ میں اپنے کہیں تن کا

    مزید پڑھیے

    رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کا

    رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کا مقطر کیا کیا لے کر گل شاداب آتش کا مرے یہ گرم آنسو پونچھ مت دست نگاریں سے کہ ان آنکھوں سے رہتا ہے رواں سیلاب آتش کا تہ مژگاں نہاں رکھتے ہیں ہم لخت دل سوزاں یہاں خاشاک میں رکھا ہے اخگر داب آتش کا نگاہ گرم سے اس کی دل بیتاب روکش ہے حریف آخر ہوا ...

    مزید پڑھیے

    کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھا

    کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھا جا کے گردوں پہ چمکتا شعلۂ جوالہ تھا خواب میں بوسہ لیا تھا رات بلب نازکی صبح دم دیکھا تو اس کے ہونٹھ پہ بتخالہ تھا واہ ری افسردگی اس خاطر دلگیر کی اشک کا قطرہ جو ٹپکا چشم سے سو ژالہ تھا تھی خیال مہ رخاں سے شب بغل لبریز نور آب سے خالی ...

    مزید پڑھیے

    گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کا

    گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کا جھکا کے آنکھ سبب کیا ہے مسکرانے کا یہ سینہ ہے یہ جگر ہے یہ دل ہے بسم اللہ اگر خیال ہے تلوار آزمانے کا کسی کے ہونٹھ کے ملتے ہی ہم تمام ہوئے مزا ملا نہ ہمیں گالیاں بھی کھانے کا مجھے یہ درد ہے معلوم حکم بلبل بن نہ میری خاک پہ کر قصد پھول لانے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپنا

    کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپنا روبرو کس کے کہیں ہم یہ فسانا اپنا نہ کسو جیب کے ہیں پھول نہ دامن کے ہیں خار کس لیے تھا چمن دہر میں آنا اپنا فائدہ کیا جو ہوئے شیخ حرم راہب دیر نہ ہوا دل میں کسی کے جو ٹھکانا اپنا ہے ہزاروں دل پر خوں کو یہاں پیچ پہ پیچ دیکھیو طرۂ مشکیں نہ ملانا ...

    مزید پڑھیے

    نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھا

    نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھا بال اس مکھڑے سے اٹھ جاتے تو مطلع صاف تھا صافی دلغزند کی کیا تھی دم بوس و کنار بوسہ کو مشکل ٹھہرنا سینہ سے تا ناف تھا اک نگہ کا دور سے بھی آج کل محروم ہے دل کہ تیرا مدتوں خوکردۂ الطاف تھا ہو در مے خانہ پر بے دخت رز بیٹھے ہوئے حضرت ممنوںؔ یہی کیا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2