اب خون کو مے قلب کو پیمانہ کہا جائے
اب خون کو مے قلب کو پیمانہ کہا جائے اس دور میں مقتل کو بھی مے خانہ کہا جائے جو بات کہی جائے وہ تیور سے کہی جائے جو شعر کہا جائے حریفانہ کہا جائے ہر ہونٹ کو مرجھایا ہوا پھول سمجھئے ہر آنکھ کو چھلکا ہوا پیمانہ کہا جائے سنسان ہوئے جاتے ہیں خوابوں کے جزیرے خوابوں کے جزیروں کو بھی ...