Malikzaada Manzoor Ahmad

ملک زادہ منظور احمد

اردو کی ممتازادبی شخصیت۔ مشاعروں کی معیار نظامت کے لئے مشہور

Famous Urdu personality. Most well-known Mushaira compere and orator.

ملک زادہ منظور احمد کی غزل

    اب خون کو مے قلب کو پیمانہ کہا جائے

    اب خون کو مے قلب کو پیمانہ کہا جائے اس دور میں مقتل کو بھی مے خانہ کہا جائے جو بات کہی جائے وہ تیور سے کہی جائے جو شعر کہا جائے حریفانہ کہا جائے ہر ہونٹ کو مرجھایا ہوا پھول سمجھئے ہر آنکھ کو چھلکا ہوا پیمانہ کہا جائے سنسان ہوئے جاتے ہیں خوابوں کے جزیرے خوابوں کے جزیروں کو بھی ...

    مزید پڑھیے

    چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

    چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے الجھن گھٹن ہراس تپش کرب انتشار وہ بھیڑ ہے کہ سانس بھی لینا محال ہے آوارگی کا حق ہے ہواؤں کو شہر میں گھر سے چراغ لے کے نکلنا محال ہے بے چہرگی کی بھیڑ میں گم ہے ہر اک وجود آئینہ پوچھتا ہے کہاں خد و خال ہے جن میں یہ ...

    مزید پڑھیے

    مرا ہی پر سکوں چہرا بہت تھا

    مرا ہی پر سکوں چہرا بہت تھا میں اپنے آپ میں بکھرا بہت تھا بہت تھی تشنگی دریا بہت تھا سرابوں سے ڈھکا صحرا بہت تھا سلامت تھا وہاں بھی میرا داماں بہاروں کا جہاں چرچا بہت تھا انہیں ٹھہرے سمندر نے ڈبویا جنہیں طوفاں کا اندازا بہت تھا اڑاتا خاک کیا میں دشت و در کی مرے اندر مرا صحرا ...

    مزید پڑھیے

    رخ پہ احباب کے پھر رنگ مسرت آئے

    رخ پہ احباب کے پھر رنگ مسرت آئے پھر مری سمت کوئی سنگ ملامت آئے تیری رحمت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے شاید آج آنکھوں میں مری اشک ندامت آئے وقت شاہد ہے کہ ہر دور میں عیسیٰ کی طرح ہم صلیبوں پہ لیے اپنی صداقت آئے حسن ہے ان میں ترا میرے جنوں کا انداز پھول بھی لے کے عجب شکل و شباہت آئے دور ...

    مزید پڑھیے

    ایسی تڑپ عطا ہو کہ دنیا مثال دے

    ایسی تڑپ عطا ہو کہ دنیا مثال دے اک موج تہ نشیں ہوں مجھے بھی اچھال دے بے چہرگی کی بھیڑ میں گم ہے مرا وجود میں خود کو ڈھونڈھتا ہوں مجھے خد و خال دے ہر لحظہ بنتے ٹوٹتے رشتے نہ ہوں جہاں پچھلی رفاقتوں کے وہی ماہ و سال دے کشکول ذات لے کے نہ جاؤں میں در بدر حاجت روا ہو سب کا وہ دست سوال ...

    مزید پڑھیے

    منظورؔ لہو کی بوند کوئی اب تک نہ مری بے کار گری

    منظورؔ لہو کی بوند کوئی اب تک نہ مری بے کار گری یا رنگ حنا بن کر چمکی یا پیش صلیب و دار گری اوروں پہ نہ جانے کیا گزری اس تیغ و تبر کے موسم میں ہم سر تو بچا لائے لیکن دستار سر بازار گری جو تیر اندھیرے سے تھے چلے وہ سرحد جاں کو چھو نہ سکے چلتا تھا میں جس کے سائے میں گردن پہ وہی تلوار ...

    مزید پڑھیے

    کچھ غم جاناں کچھ غم دوراں دونوں میری ذات کے نام

    کچھ غم جاناں کچھ غم دوراں دونوں میری ذات کے نام ایک غزل منسوب ہے اس سے ایک غزل حالات کے نام موج بلا دیوار شہر پہ اب تک جو کچھ لکھتی رہی میری کتاب زیست کو پڑھیے درج ہیں سب صدمات کے نام گرتے خیمے جلتی طنابیں آگ کا دریا خون کی نہر ایسے منظم منصوبوں کو دوں کیسے آفات کے نام اس کی گلی ...

    مزید پڑھیے

    نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہے مجھے

    نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہے مجھے خود اپنے باغ کو پھولوں سے ڈر لگے ہے مجھے عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے میں ایک جام ہوں کس کس کے ہونٹ تک پہنچوں غضب کی پیاس لیے ہر بشر لگے ہے مجھے تراش لیتا ہوں اس سے بھی آئینے منظورؔ کسی کے ہاتھ کا پتھر ...

    مزید پڑھیے

    مے کدہ ساماں تھی نظروں میں فضا کل رات کو

    مے کدہ ساماں تھی نظروں میں فضا کل رات کو چھا رہی تھی ان کی زلفوں کی گھٹا کل رات کو ہر نفس مانگی دعائے خیر ایماں کے لیے میرے پہلو میں تھا اک کافر ادا کل رات کو وہ بہار افروز آنچل صد گلستاں درکنار وہ بہشت آرزو رنگیں قبا کل رات کو آئینہ بردار خلد شوق وہ لوح جبیں وہ چراغ طور روئے پر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2