نظم
ہمارے شعروں میں مقتل کے استعارے ہیں ہمارے غزلوں نے دیکھا ہے کوچۂ قاتل صلیب و دار پہ نظمیں ہماری لٹکی ہیں ہماری فکر ہے زخمی لہو لہان ہے فکر ہر ایک لفظ پریشاں ہر ایک مصرعہ اداس ہم اپنے شعروں کے مفہوم پر پشیماں ہیں خدا کرے کہ جو آئیں ہمارے بعد وہ لوگ ہمارے فن کی علامات کو سمجھ نہ ...