ملک تاسے کی غزل

    کتنے بے حس ہیں بے حیا ہیں لوگ

    کتنے بے حس ہیں بے حیا ہیں لوگ سربسر جور ہیں جفا ہیں لوگ میں نے حق بات جب سے کہہ دی ہے مجھ سے بے انتہا خفا ہیں لوگ نام سے بھی وفا کے چڑتے ہیں کس قدر دشمن وفا ہیں لوگ ان کے کار سیاہ مت پوچھو بن کے پھرتے جو پارسا ہیں لوگ خوگر عدل کا خدا حافظ دشمن عدل برملا ہیں لوگ جان دیتے ہو جو ...

    مزید پڑھیے

    چاہتے ہو اگر ثمر اچھا

    چاہتے ہو اگر ثمر اچھا سیکھ لو پھر کوئی ہنر اچھا گر مداوائے جبر کر نہ سکو ڈھونڈ لو ایک نوحہ گر اچھا خوش نما مستعار محلوں سے اپنا بوسیدہ سا ہی گھر اچھا سو فریب اک کلاہ شاہی میں اس سے اے دل برہنہ سر اچھا راہیں کٹتی ہیں کتنی سرعت سے ساتھ ہو ہم سفر اگر اچھا ظلم دیکھا کیے رہے ...

    مزید پڑھیے

    شہروں میں محبت کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں

    شہروں میں محبت کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں نادان ہوں کیا چیز کہاں ڈھونڈ رہا ہوں جس کے در و دیوار پہ سایہ نہ ہو غم کا اک عمر ہوئی ایسا مکاں ڈھونڈ رہا ہوں بھٹکی ہوئی روحوں کو دکھا دے جو سہی سمت مدت ہوئی وہ طرز بیاں ڈھونڈ رہا ہوں

    مزید پڑھیے