چاہتے ہو اگر ثمر اچھا

چاہتے ہو اگر ثمر اچھا
سیکھ لو پھر کوئی ہنر اچھا


گر مداوائے جبر کر نہ سکو
ڈھونڈ لو ایک نوحہ گر اچھا


خوش نما مستعار محلوں سے
اپنا بوسیدہ سا ہی گھر اچھا


سو فریب اک کلاہ شاہی میں
اس سے اے دل برہنہ سر اچھا


راہیں کٹتی ہیں کتنی سرعت سے
ساتھ ہو ہم سفر اگر اچھا


ظلم دیکھا کیے رہے خاموش
آنکھ والوں سے بے بصر اچھا


وجہ تشویش آگہی ہو اگر
باخبر سے ہے بے خبر اچھا