شہروں میں محبت کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں
شہروں میں محبت کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں
نادان ہوں کیا چیز کہاں ڈھونڈ رہا ہوں
جس کے در و دیوار پہ سایہ نہ ہو غم کا
اک عمر ہوئی ایسا مکاں ڈھونڈ رہا ہوں
بھٹکی ہوئی روحوں کو دکھا دے جو سہی سمت
مدت ہوئی وہ طرز بیاں ڈھونڈ رہا ہوں