آ گیا ہو نہ کوئی بھیس بدل کر دیکھو
آ گیا ہو نہ کوئی بھیس بدل کر دیکھو دو قدم سائے کے ہم راہ بھی چل کر دیکھو میہماں روشنیو سخت اندھیرا ہے یہاں پاؤں رکھنا مری چوکھٹ پہ سنبھل کر دیکھو کبھی ایسا نہ ہو پہچان نہ پاؤ خود کو بار بار اپنے ارادے نہ بدل کر دیکھو ابر آئے گا تبھی پیاس بجھانے پہلے ریگ صحرا کی طرح دھوپ میں جل ...