شہر اجڑے ہوئے خوابوں کے بسائے کیا کیا
شہر اجڑے ہوئے خوابوں کے بسائے کیا کیا نیند میں ہم نے در و بام سجائے کیا کیا ہر قدم پر کسی منزل کا گزرتا تھا گماں راہ چلتے ہوئے منظر نظر آئے کیا کیا ہم کہ پھر تیری حقیقت پہ نظر کر نہ سکے زندگی تو نے ہمیں خواب دکھائے کیا کیا اک ستارہ کہ چمکتا ہے بہت دور کہیں ظلمت شب میں ہمیں پاس ...