Makhmoor Saeedi

مخمور سعیدی

ممتازجدید شاعر/ رسالہ ’تحریک‘ سے وابستگی

Prominent modern poet / was associated with the magazine 'Tahrik'

مخمور سعیدی کی غزل

    شہر اجڑے ہوئے خوابوں کے بسائے کیا کیا

    شہر اجڑے ہوئے خوابوں کے بسائے کیا کیا نیند میں ہم نے در و بام سجائے کیا کیا ہر قدم پر کسی منزل کا گزرتا تھا گماں راہ چلتے ہوئے منظر نظر آئے کیا کیا ہم کہ پھر تیری حقیقت پہ نظر کر نہ سکے زندگی تو نے ہمیں خواب دکھائے کیا کیا اک ستارہ کہ چمکتا ہے بہت دور کہیں ظلمت شب میں ہمیں پاس ...

    مزید پڑھیے

    فضا میں کیسی اداسی ہے کیا کہا جائے

    فضا میں کیسی اداسی ہے کیا کہا جائے عجیب شام یہ گزری ہے کیا کہا جائے کئی گمان ہمیں زندگی پہ گزرے ہیں یہ اجنبی ہے کہ اپنی ہے کیا کہا جائے وہ دھوپ دشمن جاں تھی سو تھی خموش تھے ہم یہ چاندنی ہمیں ڈستی ہے کیا کہا جائے یہاں بھی دل پہ اداسی کا چھا رہا ہے دھواں یہ رنگ و نور کی بستی ہے کیا ...

    مزید پڑھیے

    اک بار مل کے پھر نہ کبھی عمر بھر ملے

    اک بار مل کے پھر نہ کبھی عمر بھر ملے دو اجنبی تھے ہم جو سر رہ گزر ملے کچھ منزلوں کے خواب تھے کچھ راستوں کے دھول نکلے سفر پہ ہم تو یہی ہم سفر ملے یوں اپنی سرسری سی ملاقات خود سے تھی جیسے کسی سے کوئی سر رہ گزر ملے اک شخص کھو گیا ہے جو رستے کی بھیڑ میں اس کا پتہ چلے تو کچھ اپنی خبر ...

    مزید پڑھیے

    لفظوں کے سیہ پیراہن میں لپٹی ہوئی کچھ تنویریں ہیں

    لفظوں کے سیہ پیراہن میں لپٹی ہوئی کچھ تنویریں ہیں اے دیدہ ورو پہچانو تو کس ہاتھ کی یہ تحریریں ہیں جاتی ہوئی رت کب رکتی ہے اے دل یہ عبث تدبیریں ہیں جو قید ہواؤں کو کر لیں کیا ایسی بھی کچھ زنجیریں ہیں نغمہ وہ کس نے چھیڑا ہے بچھڑے ہوئے غم سب آن ملے آواز کی لہروں پر لرزاں سو مہر بہ ...

    مزید پڑھیے

    کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے

    کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے ترا خیال کہ برسوں کے بعد آیا ہے کسی نے کیوں مرے قدموں تلے بچھایا ہے وہ راستہ کہ کہیں دھوپ ہے نہ سایا ہے ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے بتا رہی ہے یہ شدت اجاڑ موسم کی شگفت گل کا زمانہ قریب آیا ہے ہوائے شب سے کہو ...

    مزید پڑھیے

    جانب کوچہ و بازار نہ دیکھا جائے

    جانب کوچہ و بازار نہ دیکھا جائے غور سے شہر کا کردار نہ دیکھا جائے کھڑکیاں بند کریں چھپ کے گھروں میں بیٹھیں کیا سماں ہے پس دیوار نہ دیکھا جائے سرخیاں خون میں ڈوبی ہیں سب اخباروں کی آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے شہر کا شہر گنہ گار تو ہو سکتا ہے جب کہیں کوئی گنہ گار نہ دیکھا ...

    مزید پڑھیے

    لجا لجا کے ستاروں سے مانگ بھرتی ہے

    لجا لجا کے ستاروں سے مانگ بھرتی ہے عروس شام یہ کس کے لیے سنورتی ہے وہ اپنی شوخی رفتار ناز میں گم ہے اسے خبر ہی کہاں کس پہ کیا گزرتی ہے جواب اس کے سوالوں کا دے کوئی کب تک یہ زندگی تو مسلسل سوال کرتی ہے اس آرزو نے ہمیں بھی کیا اسیر اپنا وہ آرزو جو سدا دل میں گھٹ کے مرتی ہے اب آ گئے ...

    مزید پڑھیے

    وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے

    وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے سینے کی کسک کس طرح مٹے ہر داغ کہن تازہ ہی تو ہے تو ساتھ کہاں لیکن اب تک ہر رہ گزر تنہائی پر جو آگے آگے چلتا ہے اے دوست کوئی تجھ سا ہی تو ہے اس طائر آوارہ کے لیے یوں جال نہ بن امیدوں کے اڑتا ہوا لمحہ جیسے ابھی روکے سے ترے رکتا ہی تو ...

    مزید پڑھیے

    چڑھتے دریا سے بھی گر پار اتر جاؤ گے

    چڑھتے دریا سے بھی گر پار اتر جاؤ گے پانو رکھتے ہی کنارے پہ بکھر جاؤ گے وقت ہر موڑ پہ دیوار کھڑی کر دے گا وقت کی قید سے گھبرا کے جدھر جاؤ گے خانہ برباد سمجھ کر ہمیں ڈھلتی ہوئی رات طنز سے پوچھتی ہے کون سے گھر جاؤ گے سچ کہو شام کی آوارہ ہوا کے جھونکو اس کی خوشبو کے تعاقب میں کدھر ...

    مزید پڑھیے

    مدتوں بعد ہم کسی سے ملے

    مدتوں بعد ہم کسی سے ملے یوں لگا جیسے زندگی سے ملے اس طرح کوئی کیوں کسی سے ملے اجنبی جیسے اجنبی سے ملے ساتھ رہنا مگر جدا رہنا یہ سبق ہم کو آپ ہی سے ملے ذکر کانٹوں کی دشمنی کا نہیں زخم پھولوں کی دوستی سے ملے ان کا ملنا بھی تھا نہ ملنا سا وہ ملے بھی تو بے رخی سے ملے دل نے مجبور کر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4