نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں
نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں ترے قریب رہوں میں کہ تجھ سے دور رہوں کہیں کوئی ترا محرم ہے اے دل محزوں مجھے بتا کہ کدھر جاؤں کس سے بات کروں تری نظر نے بہت کچھ سکھا دیا دل کو کچھ اتنا سہل نہ تھا ورنہ کاروبار جنوں پکارتی ہیں مجھے وسعتیں دو عالم کی میں اپنے آپ سے دامن چھڑا سکوں ...