Makhmoor Saeedi

مخمور سعیدی

ممتازجدید شاعر/ رسالہ ’تحریک‘ سے وابستگی

Prominent modern poet / was associated with the magazine 'Tahrik'

مخمور سعیدی کی غزل

    نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں

    نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں ترے قریب رہوں میں کہ تجھ سے دور رہوں کہیں کوئی ترا محرم ہے اے دل محزوں مجھے بتا کہ کدھر جاؤں کس سے بات کروں تری نظر نے بہت کچھ سکھا دیا دل کو کچھ اتنا سہل نہ تھا ورنہ کاروبار جنوں پکارتی ہیں مجھے وسعتیں دو عالم کی میں اپنے آپ سے دامن چھڑا سکوں ...

    مزید پڑھیے

    دل کے ورق سادہ پہ کچھ رنگ ابھاریں

    دل کے ورق سادہ پہ کچھ رنگ ابھاریں خوں گشتہ تمناؤں کی تصویر اتاریں شاید کوئی روزن کوئی کھڑکی نکل آئے سر اپنا چلو وقت کی دیوار سے ماریں کب تک دل دیوانہ یہ بے وجہ تعاقب اب ہاتھ کہاں آئیں گی رم کردہ بہاریں برہم ہوئی وہ محفل‌ یاران خوش اوقات تنہائی کے لمحات کہاں جا کے گزاریں آنگن ...

    مزید پڑھیے

    جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں

    جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں زندگی یہ ہے کہ ہر سانس میں مرتا جاؤں خون ہر لمحۂ موجود کا کرتا جاؤں رنگ تصویر‌ شب و روز میں بھرتا جاؤں منتشر سلسلۂ غم کو تو کرتا جاؤں ساتھ ہی ساتھ مگر خود بھی بکھرتا جاؤں بس یوں ہی ہمسریٔ اہل جہاں ممکن ہے دم بہ دم اپنی بلندی سے اترتا جاؤں میں کسی ...

    مزید پڑھیے

    بیان شوق پہ مائل وہ کم نظر ہوں گے

    بیان شوق پہ مائل وہ کم نظر ہوں گے جو ضبط شوق کی لذت سے بے خبر ہوں گے لذیذ ہو تو حکایت دراز ہوتی ہے ہم اہل غم کے فسانے تو مختصر ہوں گے ملے گی عشق کی ان میں بھی کار فرمائی وہ حادثے جو کسی اور نام پر ہوں گے کھلا نہ تھا یہ کبھی راز ان کی قربت میں کہ دور ہو کے وہ مجھ سے قریب تر ہوں گے تو ...

    مزید پڑھیے

    ادھوری قربتوں کے خواب آنکھوں کو دکھا جانا

    ادھوری قربتوں کے خواب آنکھوں کو دکھا جانا ہزاروں دوریوں پر یہ ترا کچھ پاس آ جانا اداسی کے دھندلکوں کا دماغ و دل پہ چھا جانا نظر کے سامنے اک گمشدہ منظر کا آ جانا سنی ہے میں نے اکثر بند دروازوں کی سرگوشی صدائیں چاہتی ہیں سب کھلی سڑکوں پہ آ جانا تری یادیں کہ اس طوفان ظلمت میں بھی ...

    مزید پڑھیے

    نہ رستہ نہ کوئی ڈگر ہے یہاں

    نہ رستہ نہ کوئی ڈگر ہے یہاں مگر سب کی قسمت سفر ہے یہاں سنائی نہ دے گی دلوں کی صدا دماغوں میں وہ شور و شر ہے یہاں ہواؤں کی انگلی پکڑ کر چلو وسیلہ یہی معتبر ہے یہاں نہ اس شہر بے حس کو صحرا کہو سنو اک ہمارا بھی گھر ہے یہاں پلک بھی جھپکتے ہو مخمورؔ کیوں تماشا بہت مختصر ہے یہاں

    مزید پڑھیے

    بکھرتے ٹوٹتے لمحوں کو اپنا ہم سفر جانا

    بکھرتے ٹوٹتے لمحوں کو اپنا ہم سفر جانا کہ تھا اس راہ میں آخر ہمیں خود بھی بکھر جانا سر دوش ہوا اک ابر پارے کی طرح ہم ہیں کسی جھونکے سے پوچھیں گے کہ ہے ہم کو کدھر جانا دل آوارہ کیا پابند زنجیر تعلق ہو نہ تھا بس میں کسی کے بھی ہوا کو قید کر جانا پس ظلمت کوئی سورج ہمارا منتظر ...

    مزید پڑھیے

    بجھ گئی دل کی روشنی راہ دھواں دھواں ہوئی

    بجھ گئی دل کی روشنی راہ دھواں دھواں ہوئی صبح چلے کہاں سے تھے شام ہمیں کہاں ہوئی شوق کی راہ پر خطر طے تو کر آئے ہم مگر نذر حوادث سفر دولت جسم و جاں ہوئی عشق و جنوں کے واردات دیدہ و دل کے سانحات بیتی ہوئی ہر ایک بات دور کی داستاں ہوئی کوئی بھی اب نہیں رہا جس کو شریک غم کہیں دور طرب ...

    مزید پڑھیے

    کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں

    کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں کون اب اس شہر میں کس کی خبر گیری کرے ہر کوئی گم اک ہجوم بے خبر کے درمیاں جگمگائے گا مری پہچان بن کر مدتوں ایک لمحہ ان گنت شام و سحر کے درمیاں ایک ساعت تھی کہ صدیوں تک سفر کرتی رہی کچھ زمانے تھے کہ ...

    مزید پڑھیے

    خوار و رسوا نہ سر کوچہ و بازار ملے

    خوار و رسوا نہ سر کوچہ و بازار ملے ہے یہی عشق کا اعزاز سر دار ملے زندگی سے یہ رہا اپنی ملاقات کا حال کسی بیزار سے جیسے کوئی بیزار ملے ہم سے پہلے بھی یہ افسانہ بیاں ہوتا تھا کتنے غم پھر بھی ہمیں تشنۂ‌ اظہار ملے زندگی نے کوئی آئینہ دکھایا جب بھی اپنے چہرے پہ ہمیں موت کے آثار ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4