Makhmoor Saeedi

مخمور سعیدی

ممتازجدید شاعر/ رسالہ ’تحریک‘ سے وابستگی

Prominent modern poet / was associated with the magazine 'Tahrik'

مخمور سعیدی کی غزل

    دیدہ و دل کی فضا پر غم کے بادل چھا گئے

    دیدہ و دل کی فضا پر غم کے بادل چھا گئے اس کے جاتے ہی نگاہوں کے افق سنولا گئے دل تو پتھر بن گیا تھا موم کس نے کر دیا مدتوں بعد آج کیوں آنکھوں میں آنسو آ گئے تھی سکوت دل سے پہلے بزم ہستی پر خروش پھر وہ سناٹا ہوا طاری کہ ہم گھبرا گئے بے حسی کا سرد موسم زندگی پر چھا گیا دل میں روشن ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ

    یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ ترا خیال اب آتا ہے بات بات کے ساتھ کٹھن تھا مرحلۂ انتظار صبح بہت بسر ہوا ہوں میں خود بھی گزرتی رات کے ساتھ پڑیں تھیں پائے نظر میں ہزار زنجیریں بندھا ہوا تھا میں اپنے توہمات کے ساتھ جلوس وقت کے پیچھے رواں میں اک لمحہ کہ جیسے کوئی جنازہ کسی ...

    مزید پڑھیے

    مجھ میں کسی کا عکس نہ پرتو خالی آئینہ ہوں میں

    مجھ میں کسی کا عکس نہ پرتو خالی آئینہ ہوں میں میرے ٹکڑے کون سمیٹے اب ٹوٹوں یا بکھروں میں میری رسائی میری حدوں تک تیری فضا میں تو بھی قید تو مجھ تک آئے تو کیوں کر تجھ تک کیسے پہنچوں میں رخ پہ جو تیرے شفق کھلی ہے خون ہے میرے خوابوں کا کہے تو اے شام تنہائی تجھ سے لپٹ کر رو لوں ...

    مزید پڑھیے

    جب کوئی شام حسیں نذر خرابات ہوئی

    جب کوئی شام حسیں نذر خرابات ہوئی اکثر ایسے میں ترے غم سے ملاقات ہوئی آپ اپنے کو نہ پہچان سکے ہم تا دیر ان سے بچھڑے تو عجب صورت حالات ہوئی حسن سے نبھ نہ نہ سکی وضع کرم آخر تک اول اول تو محبت کی مدارات ہوئی روز مے پی ہے تمہیں یاد کیا ہے لیکن آج تم یاد نہ آئے یہ نئی بات ہوئی اس نے ...

    مزید پڑھیے

    سن لی صدائے کوہ ندا اور چل پڑے

    سن لی صدائے کوہ ندا اور چل پڑے ہم نے کسی سے کچھ نہ کہا اور چل پڑے سائے میں دو گھڑی بھی نہ ٹھہرے گزرتے لوگ پیڑوں پہ اپنا نام لکھا اور چل پڑے ٹھہری ہوئی فضا میں الجھنے لگا تھا دم ہم نے ہوا کا گیت سنا اور چل پڑے تاریک راستوں کا سفر سہل تھا ہمیں روشن کیا لہو کا دیا اور چل پڑے رخت سفر ...

    مزید پڑھیے

    غم و نشاط کی ہر رہ گزر میں تنہا ہوں

    غم و نشاط کی ہر رہ گزر میں تنہا ہوں مجھے خبر ہے میں اپنے سفر میں تنہا ہوں مجھی پہ سنگ ملامت کی بارشیں ہوں گی کہ اس دیار میں شوریدہ سر میں تنہا ہوں ترے خیال کے جگنو بھی ساتھ چھوڑ گئے اداس رات کے سونے کھنڈر میں تنہا ہوں گراں نہیں ہے کسی پر یہ رات میرے سوا کہ مبتلا میں امید سحر میں ...

    مزید پڑھیے

    یاد پھر بھولی ہوئی ایک کہانی آئی

    یاد پھر بھولی ہوئی ایک کہانی آئی دل ہوا خون طبیعت میں روانی آئی صبح نو نغمہ بہ لب ہے مگر اے ڈوبتی رات میرے حصے میں تری مرثیہ خوانی آئی زرد رو تھا کسی صدمے سے ابھرتا سورج یہ خبر ڈوبتے تاروں کی زبانی آئی ہر نئی رت میں ہم افسردہ و دلگیر رہے یا تو گزرے ہوئے موسم کی جوانی آئی پا گئے ...

    مزید پڑھیے

    لبوں پہ ہے جو تبسم تو آنکھ پر نم ہے

    لبوں پہ ہے جو تبسم تو آنکھ پر نم ہے شعور غم کا یہ عالم عجیب عالم ہے گزر نہ جادۂ امکاں سے بے خیالی میں یہیں کہیں تری جنت یہیں جہنم ہے بھٹک رہا ہے دل امروز کے اندھیروں میں نشان منزل فردا بہت ہی مبہم ہے بڑھا دیا ہے اسیروں کی خستہ حالی نے قفس سے تا بہ چمن ورنہ فاصلہ کم ہے ابھی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے

    سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے ہر لمحۂ حاصل کہ گزرنے کے لیے ہے سنورے گا نہ اس شام سر آئینہ کوئی یہ شام تو تیرے ہی سنورنے کے لیے ہے ناموس گلستاں کا تقاضا سہی کچھ بھی خوشبو تو مگر قید نہ کرنے کے لیے ہے تم ریت میں چاہو تو اسے کھے نہ سکوگے کشتی جو سمندر میں اترنے کے لیے ہے کچھ ...

    مزید پڑھیے

    لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے

    لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے کچھ لفظ ہیں ایسے جو پرانے نہیں ہوتے جب چاہے کوئی پھونک دے خوابوں کے نشیمن آنکھوں کے اجڑنے کے زمانے نہیں ہوتے جو زخم عزیزوں نے محبت سے دئیے ہوں وہ زخم زمانے کو دکھانے نہیں ہوتے ہو جائے جہاں شام وہیں ان کا بسیرا آوارہ پرندوں کے ٹھکانے نہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4