Makhmoor Jalandhari

مخمور جالندھری

مخمور جالندھری کی غزل

    سجدے جبین شوق کے اب رائیگاں نہیں

    سجدے جبین شوق کے اب رائیگاں نہیں تو بے حجاب انجمن آرا کہاں نہیں میں میر کارواں ہوں پس کارواں نہیں ہاتھوں میں میرے دامن منزل کہاں نہیں موجودگئ جنت و دوزخ سے ہے عیاں رحمت ہے ایک بحر مگر بیکراں نہیں چاہے حجاب میں رہو تو چاہے بے حجاب ہم تم ہی تو ہیں اور کوئی درمیاں نہیں برق جمال ...

    مزید پڑھیے

    جلوہ فروش خاص کا انداز عام دیکھ

    جلوہ فروش خاص کا انداز عام دیکھ ہر ذرے کے وجود میں اس کا قیام دیکھ آئے گا پست تجھ کو نظر پھر ہر آستاں سجدوں میں بیٹھ کر تو حسیں کا مقام دیکھ تیری تلاش میں ہیں مرے ساتھ سرگراں میری حیات و موت کا سودائے خام دیکھ ہو دیکھنا عروج میں شان زوال اگر یہ مہر نیمروز یہ ماہ تمام ...

    مزید پڑھیے

    دل کی دنیا دیکھ کر کیوں رنگ دنیا دیکھتے

    دل کی دنیا دیکھ کر کیوں رنگ دنیا دیکھتے دیکھنے والو نہیں ہم دیکھ کر کیا دیکھتے جلوہ گاہ دل میں آ جاتے وہ بے پردہ اگر ہم بھی رنگ‌ بے خودی ہم رنگ موسیٰ دیکھتے چودھویں کا چاند ہوتا ہے درخشاں جس طرح یوں تصور میں کسی کو جگمگاتا دیکھتے غرق ہو جاتے محبت میں محبت آشنا ساحل و دریا سے ...

    مزید پڑھیے

    عاشقی میں خامشی ممکن ہے نا ممکن نہیں

    عاشقی میں خامشی ممکن ہے نا ممکن نہیں کیا کروں مجھ سے تو ضبط التجا ممکن نہیں طالب آزار عشق اور حسن آسائش پسند تو بھی ہو میرا شریک مدعا ممکن نہیں میں جو مٹ جاؤں تو بدلوں رنگ و بو کا پیرہن عالم ایجاد میں میری فنا ممکن نہیں ہر جگہ جلوے ترے میری نظر کے ساتھ ہیں میں پکاروں تو نہ ہو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2