کندن
کندن ساٹھ برس کا بوڑھا چھوٹے قدم اٹھاتا ہے صبح سویرے دھیرے دھیرے پل پر بیٹھنے آتا ہے دائیں بائیں اس کی نگاہیں دوڑتی ہیں کچھ ڈھونڈھتی ہیں تیس برس پہلے کا زمانہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے بیتے دنوں کا تصور دل کے دکھ کو اور بڑھاتا ہے دنیا اک دن اس کی تھی یہ دنیا آخر کس کی ہوئی کندن چلتے ...