Makhmoor Jalandhari

مخمور جالندھری

مخمور جالندھری کی نظم

    کندن

    کندن ساٹھ برس کا بوڑھا چھوٹے قدم اٹھاتا ہے صبح سویرے دھیرے دھیرے پل پر بیٹھنے آتا ہے دائیں بائیں اس کی نگاہیں دوڑتی ہیں کچھ ڈھونڈھتی ہیں تیس برس پہلے کا زمانہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے بیتے دنوں کا تصور دل کے دکھ کو اور بڑھاتا ہے دنیا اک دن اس کی تھی یہ دنیا آخر کس کی ہوئی کندن چلتے ...

    مزید پڑھیے

    مگرمچھ کے آنسو

    سنتے ہیں یاد مصیبت میں خدا آتا ہے آسرا اک یہی مجبور کی تقدیر میں رہ جاتا ہے ''کھول دو بند کلیساؤں کے در کھول بھی دو مانا مانوس نہیں ہاتھ دعاؤں سے دعائیں مانگیں مملکت پر کہیں خورشید نہ ہو جائے غروب حکم دے دو کہ سبھی اپنے خداؤں سے دعائیں مانگیں'' جی پہ بن جائے تو ذلت بھی اٹھا لیتے ...

    مزید پڑھیے

    کم نگاہی

    مر کے دیکھتا ہوں میں زندگی کی رزم گاہ سرد اور بجھی ہوئی جیسے ایک بیسوا رات کی تھکی ہوئی ہو پلنگ پر اداس نیم جاں پڑی ہوئی کوئی کشمکش نہیں کوئی جستجو نہیں اب تو دور دور تک حشر ہاؤ ہو نہیں چار سو نگاہ میں سوکھے سوکھے جسم میں موت کی جبیں پہ ہیں یا کریہہ تیوریاں چار سو نگاہ میں ہڈیوں کے ...

    مزید پڑھیے

    نیا مکان

    چلو مکاں کی مصیبت سے بھی نجات ملی یہ خواب گہ، یہ کچن، غسل خانہ اور بیٹھک میں سوچتا ہوں مجھے سوچنے کو بات ملی ہوئی ہیں صرف مشقت کی کوششیں ان تھک نظر ربا در و دیوار کے بنانے میں یہ قمقمے یہ تمدن کی اختراع جدید بڑھی ضلالت ادراک تیرگی نہ مٹی یہ سیڑھیاں ہیں نگاہوں کے پیچ کی مظہر حیات ...

    مزید پڑھیے