Makhmoor Jalandhari

مخمور جالندھری

مخمور جالندھری کی غزل

    کیا جانے کہاں بحر الفت کا کنارا ہے

    کیا جانے کہاں بحر الفت کا کنارا ہے ہر موج کے سینے میں کشتی کو اتارا ہے اب آہ رکے کیوں کر اب اشک تھمیں کیسے چلتی ہوئی آندھی ہے بہتا ہوا دھارا طوفان تدبر ہے گہرائی تدبر کی میں نے تہ دریا سے ساحل کو ابھارا ہے پروانے چراغوں پر گرنے لگے مستی میں یہ محفل ہستی میں کون انجمن آرا ہے سب ...

    مزید پڑھیے

    محبت بے نیاز‌ اسوا ہے

    محبت بے نیاز‌ اسوا ہے بڑے جھگڑوں پہ قابو پا لیا ہے تصور فی الحقیقت معجزہ ہے کسی کا دل پہ سایہ پڑ رہا ہے خدا ہی سے نہ کیوں مانگوں پناہیں کہ ذہن نا خدا میں بھی خدا ہے محافظ بھی مرا مجبور نکلا گنا کرتا ہوں میں وہ دیکھتا ہے سمجھتا ہے تجھے اپنی تجلی ترا پرتو بھی کتنا خود نما ...

    مزید پڑھیے

    ہم عقل پہ الفت میں بھروسا نہیں کرتے

    ہم عقل پہ الفت میں بھروسا نہیں کرتے جب کرتے ہیں کچھ کام تو سوچا نہیں کرتے خود جاگتے ہیں رکھتے ہیں تاروں کو بھی بیدار بیکار شب ہجر گزارا نہیں کرتے وہ جن کو یقیں حسن درخشاں پہ ہے اپنے کیوں دل کے اندھیرے میں اجالا نہیں کرتے ہم دیکھتے ہیں روز مہ و مہر کا جلوہ کس روز ترے رخ کا تماشا ...

    مزید پڑھیے

    مجھ سے شکیب قلب کا ساماں نہ ہو سکا

    مجھ سے شکیب قلب کا ساماں نہ ہو سکا اس پر بھی دل کا راز نمایاں نہ ہو سکا یہ دل مٹا مٹا سا یہ شعلہ بجھا بجھا ایک آفتاب سے بھی فروزاں نہ ہو سکا سلجھائے تیری زلف پریشاں کے بل مگر قائم نظام عالم امکاں نہ ہو سکا تجھ کو ترے شباب کو رنگ بقا دیا اپنی ہی زیست کا کوئی ساماں نہ ہو سکا چھڑکی ...

    مزید پڑھیے

    زیست کی ہر رہ گزر پر حشر برپا چاہئے

    زیست کی ہر رہ گزر پر حشر برپا چاہئے دل میں ہنگامہ نگاہوں میں تماشا چاہئے آنسوؤں میں بھی ترا جلوہ ہویدا چاہئے غم کے طوفانوں میں صرف اتنا سہارا چاہئے شام غم دی ہے تو اک تاباں تصور دے مجھے میں اندھیرا کیا کروں مجھ کو اجالا چاہئے میری ہستی سے برسنے لگ گئی ہیں بجلیاں اب ترے جلووں ...

    مزید پڑھیے

    جس کو نہ دل پہ ناز ہو ناز ترے اٹھائے کیوں

    جس کو نہ دل پہ ناز ہو ناز ترے اٹھائے کیوں اٹھ نہ سکے جو آستاں لے کے وہ سر جھکائے کیوں میں جو ترا حجاب ہوں کس لئے بے نقاب ہوں پردہ ہو جس کا چاک چاک پردے میں منہ چھپائے کیوں وہ جو نہ دل میں بھر سکے نور و ضیا کی بجلیاں پھول میں مسکرائے کیوں ذرے میں جگمگائے کیوں حسن تباہ کار ہے چاہے ...

    مزید پڑھیے

    جوش ابلتا ہے پگھلتی ہے تمنا دل میں

    جوش ابلتا ہے پگھلتی ہے تمنا دل میں آگ ہی آگ ہے اس سوز سراپا دل میں تیرا جلوہ ہے کہ رنگین سا دھوکا دل میں کبھی ظلمت کبھی پیدا ہے اجالا دل میں اب نہیں تیرے دو عالم کی ضرورت مجھ کو عشق نے تیرے بسا دی نئی دنیا دل میں اپنی آنکھیں تو اٹھا محو شدہ جلوے بھی نظر آئیں گے تجھے انجمن آرا دل ...

    مزید پڑھیے

    وفا کے ساتھ محبت میں نام پیدا کر

    وفا کے ساتھ محبت میں نام پیدا کر یوں ہی جہاں میں قیام دوام پیدا کر ترے لئے نہیں کونین میں جو گنجائش کسی کے دل ہی میں جائے قیام پیدا کر ہو جس طرح گزر آندھی کی طرح منزل سے قدم بڑھا طلب تیز گام پیدا کر یہ انجم و مہ و خورشید ہو چکے بوڑھے نئی تجلیٔ بالائے بام پیدا کر نہ رینگ موسمی ...

    مزید پڑھیے

    پابند احتیاط وفا بھی نہ ہو سکے

    پابند احتیاط وفا بھی نہ ہو سکے ہم قید ضبط غم سے رہا بھی نہ ہو سکے دار و مدار عشق وفا پر ہے ہم نشیں وہ کیا کرے کہ جس سے وفا بھی نہ ہو سکے گو عمر بھر نہ مل سکے آپس میں ایک بار ہم ایک دوسرے سے جدا بھی نہ ہو سکے جب جزو کی صفات میں کل کی صفات ہیں پھر وہ بشر ہی کیا جو خدا بھی نہ ہو سکے یہ ...

    مزید پڑھیے

    مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا

    مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا کہ راز داں بھی مرا رازدار ہو نہ سکا نظر سے ذروں کو الٹا گلوں کو چاک کیا مگر میں سر خوش دیدار یار ہو نہ سکا شباب و عشق کی کل عمر ایک لمحہ تھی مجھے یہ لمحہ مگر سازگار ہو نہ سکا بجائے خود مری ہستی کو کر دیا عریاں وہ پردہ دار مرا پردہ دار ہو نہ سکا وہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2