میثم عباس کی غزل

    یہ جان کر تجھے کوئی خوشی نہیں ہوگی

    یہ جان کر تجھے کوئی خوشی نہیں ہوگی کہ تیرے بعد بھی مجھ میں کمی نہیں ہوگی یہ سارا جھگڑا ترا ہے جو تو نہیں ہوگا یہاں کسی کی بھی پھر دشمنی نہیں ہوگی میں ایک دن کوئی تصویر بھی بناؤں گا یہ اور بات کہ وہ آپ کی نہیں ہوگی میں اس لئے تری آنکھوں کو ساتھ رکھتا ہوں میں جانتا ہوں وہاں روشنی ...

    مزید پڑھیے

    کتنوں کو دستیاب ہے کتنوں کا رزق ہے

    کتنوں کو دستیاب ہے کتنوں کا رزق ہے اک چاند ہے جو ہجر کی راتوں کا رزق ہے فاقوں سے مر نہ جائیں انہیں اب دکھائی دے یہ جان لے کہ تو مری آنکھوں کا رزق ہے اس نبض کی بقا کو ضروری ہے تیرا لمس خوشبو ترے وجود کی سانسوں کا رزق ہے دیکھے گا یہ ہجوم مجھے کس نگاہ سے یہ خوف اپنے آپ میں نسلوں کا ...

    مزید پڑھیے

    میں چاہتا ہوں کہ جذبوں کی ترجمانی ہو

    میں چاہتا ہوں کہ جذبوں کی ترجمانی ہو میں چاہتا ہوں کہ اظہار منہ زبانی ہو میں چاہتا ہوں کہ ہر شے ہو دستیاب مجھے میں چاہتا ہوں کہ دامن میں رائیگانی ہو میں چاہتا ہوں ترے ساتھ زندگی گزرے میں چاہتا ہوں کوئی اور بھی کہانی ہو میں چاہتا ہوں بچھڑنے کا ڈر رہے ہم میں میں چاہتا ہوں محبت ...

    مزید پڑھیے